Al-Risala · April 1988 · page 24

ملت کا المیہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴

ملت کا المیہ

ایک لڑکا باہر سے اپنے گھر میں آتا ہے اور اپنے باپ سے کہتا ہے کہ فلاں لڑکے نے مجھے گالی دی ہے۔ باپ فوراً غصہ ہو جاتا ہے اور باہر نکل کر اس لڑکے سے جھگڑنے لگتا ہے جس کے خلاف اس کے بیٹے نے شکایت کی تھی۔ اس کے برعکس ایک اور باپ ہے۔ اس کا لڑکا باہر سے منہ بنائے ہوئے آیا اور محلے کے لڑکے کے بارے میں شکایت کی کہ اس نے مجھے گالی دی ہے۔ باپ نے دوسرے لڑکے کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف اپنے بیٹے کو سرزنش کی کہ تم ایسے لڑکوں کے پاس کیوں گئے۔ کیا تمہارے پاس کرنے کا کوئی اور کام نہ تھا۔

وہ باپ یقیناً جھوٹا باپ ہے جو ہر معاملہ میں اپنے بیٹے کی حمایت کرتا ہے۔ ایسے باپ کے لڑکوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ آوارہ ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ کوئی ہنر سیکھتے اور نہ تعلیم حاصل کر پاتے۔ آخر کار وہ دادا گیری کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں تاکہ اپنی نالائقی کو دوسروں کے اوپر انڈیل سکیں۔ اس کے برعکس دوسرا باپ سچا باپ ہے۔ اس کے لڑکے خود تعمیری کی راہ پر لگتے ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور پھر ترقی کر کے اپنا مستقبل بھی بناتے ہیں اور اسی کے ساتھ اپنی قوم کا مستقبل بھی۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے تمام لیڈر، خواہ وہ بے ریش ہوں یا باریش، سب کے سب اپنی قوم کے حق میں صرف " جھوٹے باپ " ثابت ہوئے ہیں۔ یہ لیڈر نصف صدی سے کہی زیادہ مدت سے جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور بتا کر ایڈمنسٹریشن کو یک طرفہ طور پر قصور وار ٹھہرانا ہمارے تمام لیڈر بلا استثناء مسلمانوں کے معاملہ میں مسلسل یہی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ روش کسی قوم کے لیے ہلاکت سے کم نہیں۔ اس کا نقصان تمام فرقہ وارانہ فسادات میں ہونے والے مجموعی نقصان سے بھی سیکڑوں گنا زیادہ ہے۔ قوم کے قاتل کا لقب اگر صحیح طور پر کسی کے اوپر چسپاں ہوتا ہے تو وہ بلاشبہ یہی مسلم لیڈر ہیں جو قوم کی خیر خواہی کے نام پر قوم کے سب سے بڑے بد خواہ بنے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page