Al-Risala · April 1988 · page 25

ملت کا المیہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵

اس قسم کی قومی وکالت قوم کے حق میں حوصلہ کشی کے ہم معنی ہے۔ اس روش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں سے عمل کا جذبہ چھین لیا ہے۔ اس دنیا میں ہر گروہ ہر حال میں مسائل سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ گروہ اگر مسائل کی ذمہ داری خود قبول کرے تو اس کے اندر عمل کا جذبہ ابھرے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے مسائل کی ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دے تو قدرتی طور پر اس کے اندر عمل کا محرک ختم ہو جائے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی گروہ کے مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو بتانا اس گروہ کو بے عملی کا سبق دینا ہے ، اور ہمارے تمام لیڈر مسلسل یہی مجرمانہ فعل انجام دے رہے ہیں۔ ہر معاملہ میں ایڈمنسٹریشن (انتظامیہ) کو ملزم ٹھہرانا بظاہر بہت خوش کن معلوم ہوتا ہے۔ مگر قوم کو اس کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا جذبہ عمل سرد پڑ جاتا ہے۔ اس کے افراد کے اندر یہ مزاج بن جاتا ہے کہ ہم جن کمیوں اور خرابیوں سے دوچار ہیں، اس کے ذمہ دار ہم خود نہیں ہیں بلکہ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو ہمیں ان کمیوں اور خرابیوں میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ نفسیات جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائے وہ " اپنی تعمیر آپ " کی تڑپ سے خالی ہو جاتے ہیں، اور جو لوگ اپنی تعمیر آپ کی تڑپ سے خالی ہو جائیں ان کے لیے مقابلہ کی اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔

مسلم قیادت کی اس مجرمانہ روش کی ایک مثال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے۔ مسلم یونیورسٹی میں مسلسل یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ وہاں جو شخص بھی وائس چانسلر ہو کر جاتا ہے۔ شروع میں اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی وہ معتوب ہو جاتا ہے۔ اس کے خلاف یونیورسٹی کے مسلم طلبہ ایجی ٹیشن چلاتے ہیں۔ اس ایجی ٹیشن میں مسلم صحافت اور مسلم قیادت بلا استثناء ان کا ساتھ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وائس چانسلر کو بدنامی کا داغ لے کر یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وائس چانسلر جب علی گڑھ پہنچ کر قریب سے حالات کو دیکھتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ اس " قومی ادارہ " میں بہت سی اندرونی خرابیاں ہیں جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ وہاں ایسے " نو نہالان ملت " گھسے ہوئے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page