ملت کا المیہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
جن کو پڑھنے سے زیادہ دادا گیری سے دلچسپی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
وائس چانسلر اس قسم کے عناصر کے خلاف ضروری کارروائی کرتا ہے تاکہ یونیورسٹی کے فاسد عضو کا آپریشن کر کے اس کے بقیہ جسم کو صحت مند بنا سکے ۔ اب جن افراد پر اس اصلاحی عمل کی زد پڑتی ہے ، وہ " اسلام خطرہ میں " اور " یونیورسٹی کا افلیتی کردار خطرہ میں " جیسے جذباتی نعرے لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مسئلہ کو ایک ملی مسئلہ بنا دیتے ہیں ۔ وہ ہنگامہ بازی کا طریقہ اختیار کر کے یونیورسٹی کی تعلیمی فضا کو درہم برہم کر دیتے ہیں ۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہر بار تمام مسلم قائدین ، خواہ وہ بے ریش قیادت سے تعلق رکھتے ہوں یا باریش قیادت سے ، دوبارہ اسی سبق کو دہرانا شروع کر دیتے ہیں جس کو وہ دوسرے مسلم معاملات میں دہراتے رہے ہیں ۔ وہ وائس چانسلر کو " ایڈ منسٹریشن " کا نمائندہ فرض کر لیتے ہیں اور طلبہ کو " مسلم ملت " کا نمائندہ ۔ اور پھر بلا تحقیق مسلم طلبہ کو معصوم قرار دے کر یک طرفہ طور پر وائس چانسلر کو ملزم ٹھہرانے لگتے ہیں ۔ وہ اپنے الفاظ کے تمام کارتوس اس کے اوپر خالی کر دیتے ہیں ۔
اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان خود یونیورسٹی کو پہنچا ہے ۔ اس نے مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مسلمہ طور پر پست کر دیا ہے ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اب خود اچھے مسلم خاندانوں کے طلبہ کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی " سیکنڈ چوائس " بن چکی ہے ۔ یعنی اب وہ مسلم یونیورسٹی میں صرف اس وقت داخلہ لیتے ہیں جب کہ انھیں کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملا ہو ۔ حتی کہ وہ مسلم لیڈر جو اخباری بیان میں مسلم یونیورسٹی کے چیمپین بنے ہوئے نظر آتے ہیں ، وہ بھی اپنے بیٹے بیٹیوں کی تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی کے بجائے دوسری یونیورسٹیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
یہ طریقہ جو ہمارے لیڈروں نے اسلام کے نام پر اختیار کر رکھا ہے ، وہ اسلام تو کیا ہوگا وہ غیر اسلام بھی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسلام خوف خداوندی کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور غیر اسلام حقیقت پسندی کی زمین پر ۔ اور مذکورہ بالا روش کا تعلق نہ خوف خدا سے ہے اور نہ حقیقت پسندی سے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues