ملت کا المیہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷
ہندوستان دستور نے مذہبی اقلیتوں کو یہ خصوصی حق دیا ہے کہ وہ حکومت کی اعانت پر اپنے تعلیمی ادارے قائم کر سکیں ۔ اس رعایت کا اطلاق جن مذہبی اقلیتوں پر ہوتا ہے، ان میں سے دو اقلیتیں خاص ہیں۔ ایک مسلمان ، دوسرے عیسائی ۔ چنانچہ دونوں نے اپنے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جن کو حکومت کے خزانہ سے باقاعدہ طور پر مالی امداد دی جاتی ہے ۔ مگر دونوں اقلیتوں میں انتہائی نمایاں فرق ہے۔ مسلمانوں نے " اقلیتی ادارہ " کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اس میں مسلم اقلیت کو خصوصی رعایت دی جائے ۔ مثلاً مسلمان لڑکے کے کم نمبر لائیں، حتی کہ فیل ہو جائیں تب بھی انھیں جگہ دی جائے ۔ کسی مسلمان طالب علم کو داخلہ سے محروم نہ کیا جائے ۔ عیسائی حضرات نے اپنے اقلیتی اداروں میں اس کے بالکل برعکس اصول کی پیروی کی۔ انھوں نے یہ کوشش کی کہ اپنے ادارہ کو اعلیٰ ترین تعلیمی معیار پر ترقی دیں۔ مسلمانوں نے اقلیتی ادارہ کا مطلب اقلیتی رعایت کا ادارہ سمجھا تھا۔ مگر عیسائی حضرات نے اقلیتی ادارہ کو اقلیتی آئیڈیل کا ادارہ بنانے پر ساری توجہ لگادی۔ انھوں نے داخلہ کے معاملہ میں حد درجہ سختی اور اصول پسندی کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی تعلیمی ادارے ملک کے سب سے زیادہ اچھے ادارے سمجھے جانے لگے۔ ان کے معیار کے بارہ میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ وہ " کرسچین اسکول " ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ہیں جو کمتر معیار کے لیے نمونہ بن گئے ہیں ۔ دوسری طرف عیسائی حضرات کے تعلیمی ادارے ہیں جو سارے ملک میں بر تر معیار کا نمونہ بنے ہوئے ہیں، حتی کہ اب خود صاحب حیثیت مسلمان بڑی بڑی فیس ادا کر کے اپنے بچوں کو عیسائی تعلیمی اداروں میں داخل کرتے ہیں اور ان کو وہاں کا طالب علم بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کا یہ مزاج میرے نزدیک علمی خود کشی کے ہم معنی ہے۔ مسلمان اگر آج کی دنیا میں با عزت زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اداروں کو رعایت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصول کی بنیاد پر چلانا ہوگا۔ اور اس پر حد درجہ سختی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا تا کہ مسلمانوں کے ادارے اعلیٰ معیار کا نمونہ بنیں۔ حتی کہ سارے ملک میں وہ طالبِ ابن علم کے لیے " فرسٹ چوائس " بن جائیں ۔ نہ کہ " سکنڈ چوائس " یا " تھرڈ چوائس " جیسا کہ آج وہ عملاً بنے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues