ملت کا المیہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸
اکثر ایسا ہوا ہے کہ علیگڑھ کے وائس چانسلر کو سفیر یا گورنر بنا دیا گیا۔ اس بنا پر کہا جاتا ہے کہ جو شخص بھی یونیورسٹی میں وائس چانسلر ہو کر آتا ہے، اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ نئی دہلی کو زیادہ سے زیادہ خوش کرے تاکہ آئندہ کے لیے اس کی اعزازی سیٹ محفوظ ہو جائے۔ علیگڑھ کے وائس چانسلر کے لیے نئی دہلی کو خوش کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ یونیورسٹی کا اسٹینڈرڈ بڑھانے کے نام پر داخلوں میں میرٹ کا اصول جاری کر دے۔ چوں کہ ہندو طلبہ تعلیم میں آگے ہیں اس لیے اس اصول کو جاری کرنے کا نتیجہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام اہم شعبوں (سائنس، انجینئرنگ، طب) پر ہندو طلبہ قابض ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال مسلمانوں کا تناسب گھٹتا جا رہا ہے۔ اس بنا پر علی گڑھ میں مسلمانوں کو رعایتی داخلے ملنے چاہئیں، ان حضرات کو شاید معلوم نہیں کہ پاکستان (سندھ) میں بھی ہندو طلبہ وہاں کے سائنس اور انجینئرنگ اور طب کے شعبوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ پھر پاکستان میں کس وائس چانسلر کی "غداری" کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے۔
میرے نزدیک اس قسم کا مطالبہ زندگی کا مطالبہ نہیں بلکہ موت کا مطالبہ ہے۔ یہ حقیقت واقعہ سے لڑنا ہے، اور حقیقت واقعہ سے لڑنے والا صرف اپنا سر توڑتا ہے۔ وہ حقیقت واقعہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔ یہ بالکل یقینی ہے کہ مسلمانوں کے مطالبہ اور احتجاج کے باوجود یونیورسٹی میں یہ عمل جاری رہے گا، جیسا کہ وہ اب تک جاری رہا ہے۔ خواہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر خود احتجاجی مہم کے کسی لیڈر کو کیوں نہ بنا دیا جائے ۔ یہ ایک ناقا بل عمل مطالبہ ہے، اور ناقابلِ عمل مطالبہ اس دنیا میں کبھی واقعہ نہیں بنتا۔
یہ مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو زندگی کا مقام صرف استحقاق ثابت کرنے پر ملتا ہے۔ اس دنیا میں صرف وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ رعایت کی بنیاد پر حق نہ ملے تو وہ امتیاز کی بنیاد پر اپنا حق وصول کرے۔ دنیا اگر اس کو برابری (Equal) کی سطح پر قبول نہ کر رہی ہو تو وہ برابری سے زیادہ (More than equal) کی سطح پر اپنی حیثیت کو منوائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حقیقت کو بدلنے کے بجائے خود اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں۔ علی گڑھ میں اگر مسلمان طلبہ کم ہو رہے ہیں تو انھیں اپنی محنت کو بڑھا کر اس کمی پر قابو پانا چاہیے۔ احتجاج اور مطالبہ کے ذریعہ یہ مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ ۲۸ / رسالہ اپریل ۱۹۸۸ء
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues