Bhopal: Old and New
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵
قرار دیتے ہوئے اپنی زبان میں کہا : آکاش وانی سے شبد بلیک بورڈ پر لکھے جارہے تھے اور ہم ان کو پڑھ رہے تھے ۔
دوسرے دن ۲۹ نومبر کی شام کو مجھے واپس آنا تھا۔ منتظمین کی فرمائش پر دوبارہ میں نے دس منٹ کی ایک مختصر تقریر کی۔
ریاست کے ایک ہندو منسٹر (شیو بھانو سولنکی) نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں بہت سی خوبیاں ہیں جن کا مجھ کو ذاتی تجربہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام سے خود میرے گھر کو ایک فائدہ ہوا۔ میرے ایک لڑکے نے انڈسٹری لگانا چاہا۔ میرے پاس جتنی رقم تھی وہ میں نے ان کو دے دی۔ مگر یہ رقم کم تھی۔ مزید سرمایہ فراہم کرنے کے لیے میں نے اپنے ایک مسلمان دوست سے کہا۔ وہ اس کے لیے تیار ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں سود لینا حرام ہے ۔ اس لیے میں رقم تو دوں گا، مگر سود نہیں لوں گا۔ چنانچہ انھوں نے ہم کو بلا سودی قرض دے دیا۔ اگر میرا لڑکا بینک سے قرض لیتا تو اس کو کافی سود دینا پڑتا، مگر مسلمان کے ذریعہ اس کو سود کے بغیر قرض مل گیا ۔ اس طرح خود میرے گھر نے اسلام کے ایک فائدہ کا تجربہ کیا۔ اسی طرح انھوں نے کہا کہ میں مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھ کو یہ بہت اچھی چیز معلوم ہوتی ہے۔ یہ بہترین یوگا ہے۔ اس سے آدمی کی عبادت بھی ہوتی ہے اور اس کا آسن بھی پورا ہو جاتا ہے۔ نماز سے وہ بھی ملتا ہے جو روح کو ملنا چاہیے اور وہ بھی ملتا ہے، جو سر پر کو ملنا چاہیے ۔
مذکورہ ہندو منسٹر کی تقریر سن کر میں نے سوچا کہ اس ملک میں اگر صرف اتنا کیا جائے کہ ہندو مسلمان زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے سے قریب ہوں تو سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے۔ وہ کتنے نادان لیڈر تھے جنھوں نے ہندو مسلم مسئلہ کا حل دوری اور علحدگی میں سوچا ۔ حالانکہ وہ قربت اور تعلق میں زیادہ بہتر طور پر موجود تھا ۔
دہلی کے کرنل زائن صاحب نے ایک مرتبہ گفتگو میں یہ بات کہی تھی کہ ضرورت ہے کہ ایک تنظیم " فرینڈز آف اسلام سوسائٹی" کے نام سے بنائی جائے۔ ہندوستان کے اکثریتی فرقہ میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو بظاہر اگر چہ الگ مذہب رکھتے ہیں مگر انھیں اسلام سے گہری
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues