Al-Risala · April 1988 · page 36

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶

دل چسپی ہے۔ ایسے تمام لوگ اس میں جڑ جائیں گے ۔ اور اس طرح ایک بہت مفید اور دور رس کام کا آغاز ہو سکے گا۔

مذکورہ منسٹر صاحب کی تقریر سن کر یہ خیال آیا کہ اس قسم کی تنظیم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ "قرآن ہندی سوسائٹی آف انڈیا" میں ایک طرف اگر مولانا واجد الحسینی اور جناب فاروق ارگلی جیسے لوگ شریک ہیں تو اسی کے ساتھ اس میں شری رام سہائے یا تری جیسے لوگ بھی خلوص دل کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ سوسائٹی اگر " فرینڈز آف اسلام سوسائٹی " والے خواب کی تعبیر بن سکے تو یقیناً یہ ملک و قوم کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔

اس اجتماع میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء اور دانشور آئے تھے ۔ سب نے راقم الحروف کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ ایک مقرر (جناب جاوید حبیب صاحب) نے نہایت کھل کر الرسالہ کے نقطہ نظر کی تائید کی ۔

محمد یوسف بھوپالی ندوہ سے فارغ ہیں اور اب حال میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ ایم اے کا امتحان پاس کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے مجھے الرسالہ سے صرف جزئی دل چسپی تھی۔ مگر پچھلے دو سال سے میں نے الرسالہ کو اور آپ کی کتابوں کو غور کے ساتھ پڑھا ۔ اب تو میں الرسالہ کا عاشق ہو گیا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں الرسالہ ہی کا ایک مشن ہے جو خالص قرآن وسنت کی بنیاد پر مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ بھوپال کے ہندی اور اردو اخبارات نے ۲۸ نومبر کی تقریر کی نمایاں رپورٹ شائع کی ۔ روزنامہ افکار ( ۲۹ نومبر ۱۹۸۷) کے صفحہ اول پر اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کا عنوان انھوں نے ان الفاظ میں قائم کیا تھا :

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

اصل تقریر کی رپورٹ تو بڑی حد تک صحیح تھی ، مگر اس کی مذکورہ سرخی تقریر کی اصل روح کے مطابق نہ تھی ۔ اگر میں خود اس کی سرخی قائم کرتا تو اس کے الفاظ یقیناً دوسرے ہوتے ۔ کیوں کہ اس سرخی میں قومی فخر کی نفسیات جھلک رہی ہے ۔ جب کہ میں نے اپنی تقریر میں اصلاً قرآنی تعلیمات کی عظمت کو بیان کیا تھا نہ کہ کسی قوم کے شاندار کارناموں کو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page