عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷
افکار کے ہندی ایڈیشن میں نسبتاً زیادہ بہتر رپورٹنگ نظر آئی۔
خانقاہ مجددیہ میں بہت قدیم سے یہ روایت ہے کہ ہر اتوار کو ۱۲ بجے دن میں ایک مجلس ہوتی ہے۔ اس مجلس کو پہلے حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی رحمۃ اللہ علیہ خطاب فرمایا کرتے تھے اب ان کے جانشین حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ اس سے خطاب فرماتے ہیں۔ ۲۹ نومبر کو اتوار تھا۔ چنانچہ حسب معمول لوگ کافی تعداد میں جمع ہوگئے ۔ حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ کے حکم سے میں نے اس مجلس میں ایک تقریر کی ۔ تقریر کا موضوع تعلق باللہ تھا۔ میں نے اپنی ایک گھنٹہ کی تقریر میں شکر اور عبادت کی حقیقت بیان کی۔ اس کا اور دوسری تقریروں کا ٹیپ بھوپال کے بعض اصحاب کے پاس موجود ہے ۔
۲۹ نومبر کو نماز ظہر کے بعد قدسیہ بیگم کی مسجد میں ایک نشست ہوئی ۔ اس میں الرسالہ کے قارئین اور شہر کے باشعور مسلمان شریک ہوئے ۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ۔ ۔۔۔۔ اس ملک میں مسلمانوں کا المیہ، ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمان پانے سے آغاز کرنا چاہتے ہیں ، جب کہ اس دنیا میں زندگی کا راز یہ ہے کہ کھونے سے آغاز کیا جائے ۔ کھیت سے فصل لینے کے لیے پہلے اپنے دانہ کو زمین میں دفن کرنا پڑتا ہے ۔ دکان سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنے سرمایہ کو دکان میں لگا دینا پڑتا ہے ۔ ایک رہائشی مکان کا مالک بننے کے لیے پہلے یہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنی اینٹوں کو بنیاد میں دفن کر دیا جائے ۔ یہ اس دنیا میں زندگی کا قانون ہے۔ مگر مسلمان اس قانون الہی کو الٹی طرف سے چلانا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کھوئے بغیر پائیں اور دیے بغیر حاصل کریں ، تو مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ مسلمان اپنی اس الٹی جدوجہد میں آزادی کے بعد چالیس سال ضائع کر چکے ہیں ۔ اگر وہ مزید چالیس ہزار سال تک اپنی یہ الٹی کوشش جاری رکھیں تب بھی انھیں کچھ ملنے والا نہیں ۔ تقریر میں اس نقطۂ نظر کو حوالوں اور مثالوں سے واضح کیا گیا ۔ بھوپال میں میرا قیام خانقاہ مجددیہ میں تھا۔ حضرت مولانا پیر سعید میاں صاحب مجددی کے روحانی فیض اور بابرکت کلمات سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ حضرت مولانا نے حضرت شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی کے بہت سے نہایت قیمتی ملفوظات سنائے۔ ایک ملفوظ یہ تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues