عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
یہ طبی اصول ہے کہ جب مرض شدید ہو جاتا ہے تو علاج پہلے ہلکی دوا سے شروع کیا جاتا ہے کیوں کہ مرض کی شدت کا اثر دل، دماغ اور اعضائے رئیسہ پر بھی ہوتا ہے اس لیے اگر علاج میں تیز دوا دیدی جائے تو دل، دماغ اور دیگر اعضائے رئیسہ پر ناقابل برداشت اثر مرتب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہذا علاج ہلکی دوا سے شروع کیا جاتا ہے پھر حسب ضرورت بتدریج دوا کو تیز کیا جاتا ہے۔ یہی طبی اصول ہے۔
اسی طرح اصلاح نفس میں بھی یہ اصول قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اگر فساد نفس شدید ہو اور طغیانی کی حد تک پہنچ گیا ہو تو طریقہ اصلاح نرم انداز میں شروع کرنا چاہیے۔ اس کا ثبوت قرآں مجید سے حاصل ہورہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ: اِذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى (طہ ۴۴) تم دونوں موسیٰ وہارون) فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی پر پہنچ گیا ہے۔ پس اس سے نرم بات کہنا تا کہ وہ نصیحت قبول کرے یا اللہ سے ڈرے۔ "
یہ اصلاح کی لازمی شرط ہے۔ مگر اس پر عمل کرنے کے لیے صبر و برداشت کی بے پناہ مقدار درکار ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے صبر کی متاع کھودی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ وقت کے " فراعنہ" کے مقابلہ میں اس اصول کو استعمال نہیں کر پاتے۔
حضرت مولانا نے حضرت شاہ رؤف احمد صاحب (۱۲۵۳ - ۱۲۰۱ھ) کی فارسی کتاب ارکان اسلام" کا ایک صفحہ بتایا جو کہ حسب ذیل تھا :
بزرگی فرموده است که چهار ہزار اشتر کتاب خواندیم و از آنجمله چهار سخن اختیار کردیم۔ یکے آنکہ اے نفس آنچه ترا حق تعالیٰ منع کرده است از آن باز آ و إلا از ملک او بدر شو۔ دوم آنکہ اے نفس اگر طاعتِ او میکنی بکن و الا روزی او مخور۔ سوم آنکہ اے نفس بر قسمت خویش راضی باش و الا خدائے دیگر طلب کن تا ترا بیشتر دهد۔ چہارم آنکہ اے نفس اگر قصدِ گناہ داری اول جائے بہم رساں کہ ترا حق تعالی نہ بیند و إلا مکن ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ چار ہزار اونٹ کے بوجھ کے برابر میں نے کتا بیں پڑھیں اور ان سے میں نے چار باتیں حاصل کیں ۔ ایک یہ کہ اے انسان، اللہ نے تجھ کو جس چیز سے منع کر دیا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues