عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
اس کو نہ کر، ورنہ تو اس کے ملک سے باہر چلا جا۔ دوسرے یہ کہ اے انسان، اگر تو اللہ کی اطاعت کرتا ہے تو کر، ورنہ اس کا رزق نہ کھا۔ تیسرے یہ کہ اے انسان، اپنی قسمت پر راضی ہو جا، ورنہ اپنے لیے دوسرا خدا حاصل کر تا کہ وہ تجھ کو زیادہ دے۔ چوتھے یہ کہ اے انسان، اگر تو گناہ کرنا چاہتا ہے تو ایسی جگہ تلاش کر جہاں خدا تجھ کو نہ دیکھے ورنہ گناہ نہ کر۔
انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ خدا کی اطاعت کرنے پر مجبور ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
جلسہ میں شرکت کے بعد میں اپنی قیام گاہ (خانقاہ مجددیہ) واپس آچکا تھا کہ اچانک ایک صاحب آئے ۔ بظاہر وہ بالکل سیدھے سادے قسم کے معلوم ہوتے تھے ۔ انھوں نے مجھے ایک بند کاغذ دیا اور اس کے بعد فوراً واپس چلے گئے۔ انھوں نے نہ مزید کچھ کہا اور نہ وہاں ٹھہرے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد میں نے کاغذ کو کھولا تو اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی طرف سے سلام قبول ہو!
اوپر میں نے جو کچھ نقل کیا ، اس سے زیادہ مجھے اس کے بارے میں اور کچھ نہیں معلوم ہے۔ ایک صاحب ملے۔ انھوں نے اپنا تعارف اس طرح کرایا کہ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں اس کے بعد انھوں نے عام طرز کی لمبی چوڑی باتیں شروع کر دیں اور دیر تک بولتے رہے۔ میں نے کہا: آپ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں۔ آپ نے ابھی وہ چیزیں پڑھی ہیں جو آدمی کو بولنے والا بناتی ہیں۔ الرسالہ کا قاری تو وہ ہے جس پر چپ لگ جائے ، جو الرسالہ پڑھنے کے بعد یہ محسوس کرے کہ اس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، اور اب اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہیں۔
ایک مجلس میں اسلامی دعوت پر گفتگو تھی۔ میں نے کہا کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہمارا تعلق دوسری قوموں سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے ۔ نہ کہ حریف اور رقیب کا تعلق ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں ۔ آج کل تو سبھی لوگ دعوت اور داعی اور مدعو کی بات کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دعوت کسی تقریری مظاہرہ کا نام نہیں ۔ دعوت ایک سنجیدہ ترین عمل ہے۔ دعوت کی اصل بندوں کی خیر خواہی ہے۔ مدعو کو محبوب بنانا پڑتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues