عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۰
اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔
یہاں جن صاحبان سے ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک مسٹر راج تیواری ہیں ۔ وہ پابندی سے الرسالہ انگریزی پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ نے تو مجھ کو بدل کر رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو آپ ایک آدمی نہ سمجھیے ۔ میرے جیسے بے شمار لوگ ہیں جو کسی سچے پیغام کے منتظر ہیں۔ بس آپ سیٹی بجادیجئے ، اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہاں مسافروں سے لدی ہوئی ایک پوری گاڑی چل پڑی ہے ۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کسی بات کو واقعی طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پیشگی طور پر کچھ باتوں کو جانتا ہو۔ مثلاً اگر میں کہوں کہ ” میں دہلی سے آیا ہوں “ تو آپ کو پہلے سے اس کا علم ہونا چاہیے کہ ” دہلی “ کیا ہے۔ اگر آپ ” دہلی “ سے واقف نہ ہوں تو آپ میرے جملہ کو ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
بھوپال کا سفر مختصر ہونے کے باوجود خدا کے فضل سے کافی مفید رہا اور اس کا کریڈٹ تمام تر ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کو جاتا ہے ۔ وہ دس برس سے پابندی کے ساتھ الرسالہ کو پھیلا رہے ہیں ۔ اور انھوں نے تقریباً پورے بھوپال کے لوگوں کو الرسالہ کے مشن سے متعارف کرا دیا ہے۔ چنانچہ میں بھوپال پہنچا تو وہاں وہ ذہنی پس منظر پوری طرح موجود تھا جو الرسالہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے ۔ اس چیز نے بھوپال کے سفر کو توقع سے زیادہ کامیاب بنا دیا۔ فللہ الحمد۔ ایک صاحب نے اخبار ریڈینس (۲۹ نومبر، 1987) پیش کیا اور کہا کہ دیکھیے خود مسلمان ہی اسلام کو مٹانے پر تلا ہوا ہے، پھر ہم غیروں سے کیا امید کر سکتے ہیں ۔ اس اخبار کے ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ جموں اور کشمیر کے مسلم وزیر اعلیٰ اسلام دشمن ہیں ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کشمیر میں اسلام پسند جماعت نے ایک سو سے زیادہ اسلامی اسکول قائم کر رکھے ہیں اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ ان کو طاقت سے بند کر دینا چاہتے ہیں :
The Chief Minister has received his anti-Islamic legacy from his late father who struck a deadly blow to the Islamic education in 1975. میں نے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ اندازِ فکر ہے۔ اور اسی غیر حقیقت پسندانہ اندازِ فکر
‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues