Al-Risala · April 1988 · page 42

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۲

ملاقات کے دوران کہا کہ پہلے تو آپ مسلم مخالف تقریریں کرتے تھے۔ اب آپ کا لہجہ بدل گیا ہے۔ شاید آپ نے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسا ہے۔ اٹل بہاری باجپئی نے اس کو سن کر کہا : "میاں ، آدمی نہیں بولتا ، پلیٹ فارم بولتا ہے"

اٹل بہاری باجپئی کے اس جواب پر ایک تاثر یہ ہو سکتا ہے کہ یہ بے اصول سیاست یا زیادہ سخت لفظوں میں منافقت ہے۔ مگر میں نے اس کو سنا تو میرے دل نے کہا کہ ہم کو ان کی اس کمزوری کو مانتے ہوئے یہ کرنا چاہیے کہ ایسا پلیٹ فارم ، وجود میں لائیں جہاں آدمی ہمارے موافق بولنے پر مجبور ہو جائے۔

اس بات کی ایک دلچسپ مثال اسی جلسہ میں شیعہ رہنما جناب پرنس انجم قدر صاحب نے پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہمارے شہر میں ایک مشہور سنی عالم آئے۔ ہم نے ان کو اپنے امام باڑہ میں بلا کر استقبالیہ دیا اور ان سے تقریر کرائی۔ وہ تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اس حدیث کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا : تَرَكْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي ۔ اور اہلِ بیت کی فضیلت پر شاندار تقریر کی۔ اس سنی عالم کے شہر والے شیعہ حضرات کو معلوم ہوا تو انھوں نے پرنس انجم قدر صاحب سے کہا کہ یہ سنی عالم ہمارے یہاں تو دوسرے قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ پرنس انجم قدر نے جواب دیا : تم ان کے ساتھ جیسا کیا کرتے ہو ویسا وہ تمہارے ساتھ کرتے ہیں، ہم نے ان کے ساتھ جیسا کیا ویسا انھوں نے ہمارے ساتھ کیا ۔ واضح ہو کہ سنی علماء کے نزدیک زیادہ صحیح اور مستند روایت وہ ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : تَرَكْتُ فِيْكُمُ أَمْرَينِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُم بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلِهِ)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page