Al-Risala · April 1988 · page 43

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۳

سبق آموز

۳۱ اگست ، 1987 کی صبح کو تمام اخبارات یہ خبر لے کر آئے کہ ہر جندر سنگھ جندا اور سنام سنگھ باوا کو دہلی میں گرفتار کر لیا گیا۔ جندا پنجاب کے انتہائی خطر ناک دہشت پسندوں میں سے تھا۔ وہ خالصتان کمانڈو فورس میں " جنرل" کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس نے جنرل وید یہ ، للت ماکن ایم پی ، ارجن داس کونسلر ، کئی پولیس افسر اور بیسیوں دوسرے افراد کو قتل کیا تھا۔ پنجاب نیشنل بنک لدھیانہ میں پانچ کروڑ روپیہ سے زیادہ کی ڈکیتی میں اسی کا ہاتھ تھا۔ وغیرہ ۔ گرفتاری کے وقت اس کے پاس سے نہایت خطرناک ہتھیار، پانچ لاکھ روپے نقد ، بہت سا سونا اور دوسری چیزیں برآمد ہوئیں ۔ اس گرفتاری کے ذیل میں بہت سی تفصیلات اخباروں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک جزو یہ تھا کہ :

The police found in Jinda's pocket some powder which they suspect is cyanide. Jagdish Singh had swallowed cyanide when he was taken to the police post at Paharganj. If Jinda had died, it would have robbed the police of a chance to interrogate him and obtain vital information (p.3). پولیس نے نہایت صحیح وقت پر اس کو پکڑ لیا۔ کیوں کہ یہاں ایک اور خطرہ تھا۔ جندا خود کشی کر سکتا تھا جیسا کہ جگدیش سنگھ زیلا والا نے دو سال پہلے کیا تھا۔ پولیس کو جندا کی جیب میں کچھ سفوف ملا ہے جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ سائنائیڈ زہر ہے۔ جگدیش سنگھ نے اس وقت سائنائیڈ کھا لیا تھا جب کہ وہ پہاڑ گنج کی پولیس چوکی کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اگر جندا مر جاتا تو پولیس کے لیے یہ موقع ختم ہو جاتا کہ وہ اس سے سوالات کرے اور اہم معلومات حاصل کرے ۔ (انڈین ایکسپریس یکم ستمبر، 1987)

دہشت پسند تنظیم کا کوئی شخص اگر زندہ حالت میں پولیس کے قبضہ میں چلا جائے تو پولیس اس پر ناقابل برداشت سختیاں کر کے اس سے تمام راز اگلو اسکتی ہے، اور پھر پوری تنظیم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ ایسی حالت میں دہشت پسند فوراً خود کشی کر لیتا ہے۔ وہ اپنا وجود مٹا دیتا ہے تاکہ اپنی تنظیم کے وجود کو بچا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page