Al-Risala · April 1988 · page 44

عہد جدید کی ترقیات کا سہرا حاملین قرآن کے سر ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴

یہی قربانی جماعتوں کی زندگی کی ضمانت ہے، خواہ وہ تخریبی جماعت ہو یا تعمیری جماعت۔ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ فرد کے تقاضے اور جماعت کے تقاضے میں ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے کو ہلاک کرلے تاکہ جماعت کو زندگی حاصل ہوسکے۔ تاہم جسمانی قتل اس قربانی کی سب سے چھوٹی صورت ہے۔ اس راہ کی زیادہ بڑی قربانی وہ ہے جس کو حیاتی قتل یا نفسیاتی ہلاکت کہا جا سکتا ہے۔ پہلا اگر جہادِ اصغر ہے تو دوسرا جہادِ اکبر۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ فرد کو اپنی حق تلفی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی انا کو چوٹ لگتی ہے ۔ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کے اندر منفی جذبات کو جگا دیتے ہیں۔ وہ اتحاد کے بجائے اختلاف کی باتیں سوچنے لگتا ہے۔

ایسے تمام مواقع پر اس کو وہی کام کرنا ہے جو دہشت پسند تنظیم کا ایک ممبر کرتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ دہشت پسند تنظیم کا ممبر اپنے جسم کو قتل کرتا ہے ، مگر تعمیری اجتماعیت کے رکن کو ایسے موقع پر اپنے احساس کو قتل کرنا ہے۔ اس کو اپنی منفی نفسیات کو پوٹاشیم سائنائیڈ کی خوراک کھلانا ہے۔

جس اجتماعیت کو ایسے افراد مل جائیں، اس کو دنیا کی کوئی رکاوٹ کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی ۔

اجتماعیت کو زندگی دینے کے لیے انفرادی نفسیات کا یہ قتل ہر حال میں ضروری ہے۔ حتیٰ کہ پیغمبر کے زمانہ کی اجتماعیت بھی اس ناگزیر قربانی کے بغیر قائم نہیں ہوسکی۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے مقدس ساتھیوں نے بار بار اس قسم کی نفسیاتی خودکشی کی قربانی دی۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ عرب میں وہ طاقت ور اجتماعی ہیئت ظہور میں آئی جو سارے عالم کی قسمت بدل دے، اور انسان کو ایک نئے تاریخی دور میں داخل کر دے۔ فرد کی ہلاکت پر اجتماع کو زندگی ملتی ہے، اجتماع کی زندگی کا اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1988 All issues

Printed page