Al-Risala · January 1988 · page 21

جن اور عملیات

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱

(فَاسْتَجَبْتُ لَهُ، فَاسْرَعْتُم اجابتِی) تم کو گمراہی کی طرف وسوسہ اور تزئین کے ذریعہ التفسیر النسفی، الجز الثانی، صفحه ۲۶۰ بلایا۔ " تو تم نے میری پکار پر لبیک کہا " یعنی تم میری پکار پر دوڑ پڑے۔

شیطان کیا ہے، وہ ایک جن ہے۔ بلکہ وہ جنوں کا سردار ہے۔ قرآن کے مطابق اس کو انسان کے اوپر کوئی عملی یا جسمانی اختیار حاصل نہیں۔ جب قرآن کا بیان یہ ہے تو ایسے تمام خیالات باطل اور لغو ہیں جن میں یہ فرض کیا گیا ہو کہ شیطان (یا جنات) آدمی کے اوپر آتے ہیں اور وہ انسان کو جسمانی طور پر مغلوب کرکے اس کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں۔ شیطان (یا جنات) آدمی کو صرف بہکا سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ اور کرنے پر وہ قادر نہیں۔

اسی طرح یہ خیال بھی سراسر لغو ہے کہ انسان عملیات کے ذریعہ جنوں کو مسخر کر لیتا ہے او ران سے بڑے بڑے کام لیتا ہے۔ قرآن وحدیث کے پورے ذخیرہ میں اس قسم کے عقیدہ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ جنات کی تسخیر کا عقیدہ دراصل یہود کی خرافات ہے۔ یہ یہود سے دوسرے قوموں میں بھی آگیا ہے۔ یہود نے حضرت سلیمان کے معاملہ کی غلط تشریح کرکے جن کی تسخیر اور عملیات کافن ایجاد کیا اور اس کو بے بنیاد طور پر مذہبی حیثیت دیدی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر اور بادشاہ ہیں ۔ ان کا زمانہ دسویں قبل مسیح ہے۔ انھوں نے تقریباً چالیس سال تک حکومت کی ۔ ان کا پایہ تخت یروشلم تھا، شام و کے علاوہ آپ کی سلطنت کے حدود ایک طرف فرات تک اور دوسری طرف مصر کی سرحد تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی سلطنت (۹۳۰ - ۱۰۰۰ ق م ) کانقشہ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ (۱۹۸۴) جلد ۱ صفحه ۴۳۳ پر دیکھا جاسکتا ہے ۔

قرآن کے بیان کے مطابق حضرت سلیمان کو غیر معمولی طاقتیں حاصل تھیں ۔ ہوا ان کے تابع تھی۔ جنات ان کے لیے مسخر کر دیے گئے تھے۔ وہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے ۔ وہ غیر معمولی واقعات ظہور میں لانے پر قادر تھے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کو یہ چیزیں پیغمبر کی حیثیت سے دی گئی تھیں۔ مگر یہودیوں میں ایک طبقہ پیدا ہوا جو یہ کہتا تھا کہ سلیمان جو غیر معمولی کام کرتے ہیں وہ سب جادو کے زور پر کرتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page