فکری طاقت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۳
جس کا ایک رخ خشکی کی طرف ہے اور اس کا دوسرا رخ سمندر کی طرف ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول ۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک بنو اسحاق کے ستر ہزار افراد اس سے جنگ نہ کریں ۔ جب وہ لوگ اس شہر تک آئیں گے تو وہ وہاں اتریں گے۔ وہ کسی ہتھیار سے نہ لڑیں گے اور نہ کوئی تیر ماریں گے۔ وہ کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ پس اس کے دور رخوں میں سے ایک رخ گر جائے گا۔ ثور بن زید راوی حدیث نے کہا کہ میں اس کے سوا نہیں جانتا کہ آپ نے فرمایا کہ وہ جو سمندر کی جانب ہے۔ پھر وہ لوگ دوبارہ کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، پس اس کا دوسرا رخ گر جائے گا۔ پھر وہ لوگ تیسری بار کہیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ، پس وہ ان کے لیے کھل جائے گا وہ اس میں داخل ہو جائیں گے اور غنیمت حاصل کریں گے ۔ پس جب وہ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے ، اسی اثناء میں پکار سنائی دے گی ــ کہہ دینے والا کہے گا کہ دجال نکل آیا۔ پس وہ ہر چیز چھوڑ دیں گے اور لوٹ آئیں گے ۔
اس روایت کی ذیلی تفصیلات سے ہٹ کر اس کے اصل مدعا کو دیکھیے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ ایسا زمانہ آئے گا جب لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے سے فتح حاصل ہو گی۔ بالفاظ دیگر، ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ بلکہ اسلام کی فکری اور نظریاتی طاقت ہی قوموں کو مسخر کرنے کے لیے کافی ہو جائے گی ۔
مذکورہ حدیث میں آخری زمانہ کے ایک واقعہ کا ذکر ہے جس کے لیے حدیث میں "غزوہ" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ کی تشریح فرمائی تو کہا کہ وہ نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ کوئی تیر چلائیں گے ۔ وہ صرف لاالہ الا اللہ کہیں گے اور ان کے لیے فتح کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ "غزوہ" کا مطلب لازمی طور پر جنگ و قتال نہیں ہے ۔ فکری اور نظریاتی مہم بھی اسلام کے نزدیک غزوہ ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کے مطابق، دور آخر میں غزوہ کی یہی قسم مسلمانوں کے لیے غلبہ اور کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگی۔