رد عمل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۴۷
رد عمل
سعید نورسی (۱۹۶۰ء - ۱۸۷۳ء) ترکی کے ایک عالم اور مجاہد تھے۔ وہ بے حد ذہین اور قابل آدمی تھے۔ ترک حکومت کے خلاف ان کے پرجوش بیانات کی وجہ سے حکومت ان کی مخالفت ہوگئی۔ وہ گرفتار کرلیے گئے۔ وہ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے۔ وہاں انھوں نے بیان دیتے ہوئے کہا :
لو ان لي الف روح لما تردد ت ان اجعلها فداء لحقيقة واحدة من حقائق الاسلام ۔
اگر میرے پاس ایک ہزار روح ہوتی تب بھی میں اس سے نہ ہچکچاتا کہ ان سب کو اسلام کی حقیقتوں میں سے کسی ایک حقیقت کے لیے قربان کردوں۔ ( ر د ع و ة ا ل ح ق ، ر ب ا ط ، ن و م ب ر ١٩٨٥ ء ، ص ف ح ہ (۸ سعید نورسی تعلیم اور مطالعہ میں مشغول تھے کہ ایک واقعہ گزرا جس نے ان کی زندگی کو مجاہدانہ زندگی بنادیا :
وفي هذه الاثناء قرأبدیع الزمان فی الجرائد المحلية ان وزیر المستعمرات البریطانی غلاد ستون صرح فی مجلس العموم البریطانی وهو یخاطب النواب و بیده نسخة من القرآن الکریم قائلاً: مادام هذا القرآن بید المسلمین فلن نستطیع ان نحکمهم. لذلك فلامناص لنا من أن نزيله من الوجود او نَقْطَعُ صلة المسلمین به . (صفحه ۷۸)
رہنمائی کے دوران) بدیع الزمان سعید النورسی نے بعض مقامی اخبارات میں پڑھا کہ برطانیہ کے وزیر نو آبادیات گلیڈسٹون نے برطانی دارالعوام میں تقریر کی۔ ان کے ہاتھ میں قرآن تھا اور انہوں نے نمائندگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ قرآن مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گا ہم ان کے اوپر اپنا حکم نہیں چلا سکتے۔ اس بنا پر ہمارے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ یا تو اس کتاب کا وجود مٹا دیں یا مسلمانوں کا رشتہ اس سے کاٹ دیں۔
سعید نورسی کے اندر یہ تڑپ نہیں کہ وہ " "گلیڈ اسٹون " کو گمراہی سے نکالیں اور