رد عمل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۱۵
اس کو جنت کا راستہ دکھانے کی کوشش کریں ۔ البتہ اس نے سعید نورسی کی مقدس کتاب کی توہین کر دی تو وہ بھڑک اٹھے۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام مسلم شخصیتوں کا حال رہا ہے ۔ مثبت مقصد کے لیے وہ نہ اٹھ سکے ۔ البتہ رد عمل کے جذبہ کے تحت وہ کبھی ایک کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے اور کبھی دوسرے کے خلاف ۔
اسلام مثبت حقیقتوں کا دین ہے ۔ وہ رد عمل کے تحت بھڑک اٹھنے کا نام نہیں ۔ مومن وہ ہے جو خدا کی عظمتوں کو دریافت کرے اور اس میں جینے والا بن جائے ۔ وہ کائنات میں خدا کی نشانیوں کو پڑھے اور اس کے ذہن میں ربانی علوم کا چشمہ پھوٹ نکلے ۔ وہ غیب کے پردہ کو پھاڑ کر جنت اور جہنم کو دیکھ لے اور پھر شدید ترین طور پر اس بات کا حریص بن جائے کہ خدا اس کو جہنم کی آگ سے بچائے اور اس کو جنت کے باغوں میں داخل کرے ۔
اسی معرفت کا نام ایمان و اسلام ہے ۔ اور یہ ایمان و اسلام اپنی آخری انتہا پر پہنچ کر دعوت بن جاتا ہے ۔
سعید نورسی نے پر جوش طور پر کہا تھا کہ اسلام کی باتوں میں سے کسی ایک بات کا مسئلہ بھی ہو تو وہ اس کے لیے اپنا پورا وجود صرف کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ بظاہر ان کے یہ الفاظ تمام اسلام کو سمیٹے ہوئے ہیں ۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو اس کا تعلق صرف جزئی اسلام سے ہے نہ کہ کلی اسلام سے ۔
ایک غیر مسلم شخص کا قرآن کے خلاف گستاخی کرنا اسلام کے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے اسی طرح اسلام کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس غیر مسلم کو اور اس کے جیسے دوسرے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت پہنچائی جائے ۔ سعید نورسی اور ان کے جیسے دوسرے لوگ اول الذکر اسلامی مسئلہ کے لیے تو بہت تڑپے۔ مگر ثانی الذکر اسلامی مسئلہ کے لیے ان میں سے کسی کے اندر تڑپ پیدا نہیں ہوئی ۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم مجاہدین کا معاملہ ہے ۔ وہ دوسروں سے نفرت کرنے کے مجاہد بنے ، مگر وہ دوسروں سے محبت کرنے کے مجاہد نہ بن سکے ۔ لوگوں کو جہنم میں داخل کرنے کے لیے انھوں نے بہت سرگرمی دکھائی ، مگر وہ اس کے لیے سرگرم نہ ہو سکے کہ لوگوں کو خدا کی رحمتوں کے سایہ میں پہنچائیں۔