Al-Risala · January 1988 · page 22

جن اور عملیات

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

یہ ذہن یہودیوں میں اتنا بڑھا کہ وہ حضرت سلیمان کی پیغمبری کے منکر ہو گئے۔ وہ کہنے لگے کہ سلیمان جادوگر تھے نہ کہ پیغمبر۔ چنانچہ موجودہ بائبل میں حضرت سلیمان کے بارہ میں جو باب ہے وہ نہ صرف یہ کہ آپ کو پیغمبر کی حیثیت سے پیش نہیں کرتا بلکہ اس کو پڑھ کر آپ کے کردار کے بارہ میں بھی کوئی اونچی تصویر نہیں بنتی :

لما ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما نزل جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا عليه من الله سليمان بن داؤد وعدّه فيمن عد جو سلیمان بن داؤد کے بارہ میں آپ پر اترا تھا من المرسلين . قال من كان بالمدينة من اليهود اور ان کو پیغمبروں میں سے شمار کیا تو مدینہ کے الا تعجبون من محمد يزعم ان ابن داؤد كان یہودیوں نے کہا کہ کیا تم محمد پر تعجب نہیں کرتے۔ نبياً والله ما كان الا ساحرا ان کا گمان ہے کہ ابن داؤد نبی تھے۔ خدا کی قسم (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحه ۱۳۷) وہ تو صرف ایک جادوگر تھے۔

یہودیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانہ میں انہوں نے جادو اور عملیات کا زبردست کاروبار پھیلا رکھا تھا۔ جیوش انسائیکلو پیڈیا میں اس کا تفصیلی ذکر ہے ، اس سلسلہ میں مقالہ نگار نے یہ الفاظ لکھے ہیں :

Adultry and sorcery have destroyed everything, the Majesty of God departed from Israel. Exorcism also flourished. The Greco-Roman world regarded the Jews as a race of Magicians. Jewish Encyclopedia, Vol. VII, p. 255. بدکاری اور جادو نے ہر چیز کو برباد کر دیا تھا۔ خدا کی عظمت اسرائیل سے رخصت ہو گئی تھی۔ جھاڑ پھونک بھی ان کے درمیان کثرت سے پھیلا ہوا تھا۔ یونانی اور رومی دنیا یہود کو جادوگروں کی ایک نسل سمجھنے لگی تھی ۔

جادو اور عملیات کے اس کاروبار کو یقینی ثابت کرنے کے لیے انھیں کوئی حوالہ درکار تھا اور یہ حوالہ انھوں نے حضرت سلیمان کی زندگی میں دریافت کر لیا۔ حضرت سلیمان کے حیرت انگیز واقعات لوگوں کو معلوم تھے۔ یہود نے کہا کہ سلیمان یہ تمام واقعات جادوگری کے زور پر کرتے تھے نہ کہ پیغمبری کے زور پر ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page