عبرتناک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۱
عبرتناک
مریم جمیلہ ایک امریکی نومسلمہ ہیں۔ وہ آج کل پاکستان میں رہتی ہیں۔ انھوں نے اسلام کے بارے میں انگریزی میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام یہ ہے : Islam in Theory and Practice اس کتاب کا اردو ترجمہ " اسلام ایک نظریہ ، ایک تحریک " کے نام سے پاکستان سے شائع ہوا ہے اس کتاب کا ایک باب " اسلام اور صفائی پسندی " کے بارے میں ہے۔ اس باب کے آغاز میں وہ لکھتی ہیں :
" آج مسلمان ممالک میں بے حد گندگی اور غلاظت پائی جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے لوگ مسلمانوں سے جو نفرت کرتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ گندگی اور غلاظت بھی ہے۔ یہ چیز مسلمانوں کی ساری شہرت اور ساکھ پر پانی پھیر دیتی ہے۔ کسی بھی یورپی سیاح سے پوچھیے۔ دنیائے اسلام کے ملکوں اور عوام کے متعلق اس کا کیا خیال ہے؟ آپ کو ہمیشہ ایک جواب ملے گا؛ "وہ کتنے غلیظ ہیں ! " افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ نکتہ چینی بسا اوقات اس قدر صحیح ہوتی ہے کہ خود یورپی نژاد نومسلم محض اسی وجہ سے ارتداد کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ایک بہت اچھی دوست ایک جرمن نومسلم ۔ ۔۔۔۔ بیگم فاطمہ ہیرن سرکا ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر ان دنوں ایک مسلمان ملک میں اسلامی زندگی بسر کرنے کی انتہائی کوشش کر رہے تھے۔ ۱۱ اگست ۱۹۷۴ کو بیگم فاطمہ نے مجھے ایک خط میں لکھا :
" میرے شوہر اس ملک میں پھیلی ہوئی گندگی سے بے حد متنفر ہو چکے ہیں۔ ان کے دفتر کی دیواریں خصوصاً سیڑھیاں پان کی پیک سے لال سیاہ ہو رہی ہیں۔ لوگ اپنی پتلون کے بٹن باٹھ روم میں نہیں، اپنے میز کی طرف واپس آتے ہوئے لگاتے ہیں۔ جس ٹوئیٹی پر میرے شوہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں دوسرے لوگ وہاں اپنے مصنوعی دانت صاف کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور پان کی سرخی سے ارد گرد کی ہر چیز کو لال کر دیتے ہیں۔ اسی دوران میں نوکر جا کر پینے کا پانی بھرتے رہتے ہیں۔ جمعہ کے روز نہا دھو کر اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد میں آنے