Al-Risala · May 1988 · page 22

عبرتناک

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۲

کے بجائے گندے اور بدبو دار کپڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ - - - - - پاکستان میں جس قسم کے حالات ہیں ان کے پیش نظر میرے شوہر کی رائے یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی سلامتی مطلوب ہے تو جلد سے جلد مسلمانوں سے الگ ہو جانا چاہیے۔ جرمنی میں وہ اپنی تبلیغی جدوجہد کے لیے کہیں زیادہ مفید ثابت ہوسکیں گے :

انھوں نے پاکستان کے مسلمان معاشرہ میں بودو باش اختیار کرنے کی سر توڑ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے اور اگلے سال دونوں میاں بیوی اپنی آبائی سرزمین کو لوٹ گیے ۔ کس قدر اندوہناک بات ہے ۔ آج کے مسلمان ممالک اپنی گندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں بد نام ہیں حالانکہ اسلام سے زیادہ کوئی دوسرا مذہب جسم اور ماحول کے پاک صاف ہونے کی ضرورت واہمیت پر زور نہیں دیتا ۔ (صفحه ۸۴ - ۸۳ )

پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں تقریباً نصف صدی سے " اسلامی نظام قائم کرو" کا غلغلہ مچا ہوا ہے ۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ آج ایک نو مسلم اپنے اسلام کو بچانے کے لیے اسلام پسندوں" کے ملک کو چھوڑ کر " کفر پسندوں " کے ملک میں پناہ لے رہا ہے ۔ اس صورت حال کی ذمہ داری تمام تر ان نام نہاد اسلامی قائدین پر ہے جنھوں نے دین میں " لازم " کو "متعدی " کرنے کا مجرمانہ فعل انجام دیا۔ قرآن میں اقیموا الدین کا حکم اس معنی میں تھا کہ ہر مسلمان دین پر قائم ہو جائے ۔ مگر جھوٹی تعبیرات کے ذریعہ اس کا مفہوم یہ بنا دیا گیا کہ حکمرانوں کے اوپر دین کو قائم کرو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی دوسروں کے خلاف دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے ، خود اپنی زندگی میں اس کو دین پر کاربند ہونے کی کوئی فکر نہیں۔ اسی طرح تمام اسلامی احکام کو فعل لازم سے فعل متعدی کر دیا گیا ہے ۔ اس معنوی تحریف کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ حکمرانوں کے اوپر دین کو نافذ کرنے کے لیے تو قتال اور مسلح اقدام تک جانے کی تقریریں کر رہے ہیں ، اور خود اپنی زندگی میں معمولی اخلاقی آداب کا اہتمام کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page