Al-Risala · May 1988 · page 23

عبرتناک

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳

ایک آیت

سورہ لقمان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے : بے شک قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اور وہی بارش اتارتا ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہوتا ہے۔ اور کسی کو بھی علم نہیں کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا۔ اور کسی کو یہ علم نہیں کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔ جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ قیامت کی ساری تفصیلات انسان کے علم میں نہیں۔ مگر زندگی کی بہت سی حقیقتیں ہیں جن کے وقت اور ان کی نوعیت کا کسی کو علم نہیں۔ ہم اپنی بشری محدودیت کی وجہ سے ان کا احاطہ نہیں کرپاتے۔ پھر بھی کوئی شخص ان کا انکار نہیں کرتا۔ زندگی کے تمام معاملات اسی قسم کی ناکافی معلومات" کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں۔ پھر اسی قسم کی معلومات کو قیامت کے انکار کے لیے معقول وجہ مان لینا کیوں کر درست ہو سکتا ہے ۔

بارش آتی ہے اور آنے والی ہے، مگر انسان کو قطعیّت کے ساتھ معلوم نہیں ہوتا کہ کب آئے گی آج بھی محکمہ موسمیات اس معاملہ میں اتنا ہی عاجز ہے جتنا قدیم دور کا انسان اپنے کو عاجز محسوس کرتا تھا۔ عورت حاملہ ہوتی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ جننے والی ہے۔ مگر کیا جنے گی یہ کسی کو نہیں معلوم ۔ پیدا ہونے والا کتنی مدت تک دنیا میں رہے گا اور کب مر جائے گا۔ وہ کیا کمائے گا۔ وہ برا نکلے گا یا بھلا۔ وہ دوسروں کو کیا دے گا اور خود کیا حاصل کرے گا۔ اندر کا انسان باہر آکر کیا ثابت ہوگا۔ یہ سب باتیں لامعلوم رہتی ہیں۔ پھر بھی انسان یقین رکھتا ہے کہ عورت کے پیٹ سے ایک جان ظاہر ہونے والی ہے۔ وہ مذکورہ عدم واقفیت کو اس کے انکار کی وجہ نہیں بنالیتا۔ کسی آدمی کو یہ نہیں معلوم کہ وہ آئندہ کیا کچھ حاصل کرے گا۔ آدمی پروگرام بناتا ہے مگر اس کی تکمیل ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہے۔ وہ بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے۔ مگر اس کا منصوبہ بالآخر کیا صورت اختیار کرے گا، اس کو کوئی نہیں جانتا۔

موت ہر ایک کے لیے یقینی ہے۔ مگر کون شخص کہاں مرے گا اور کہاں اپنی کتاب زندگی کا آخری صفحہ لکھے گا ، اس کے بارے میں کوئی بھی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page