عبرتناک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴
کب کیا، کتنا اور کہاں کے سوالات جن کو لوگ قیامت کے انکار کے لیے بنیاد بناتے ہیں، ٹھیک نہیں سوالات کی موجودگی میں دوسری باتوں کو مان لیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام چلاتے ہیں۔ پھر اسی قسم کی کمتر واقفیت کی بنا پر قیامت کے بارے میں کیوں شبہ کیا جانے لگے ۔ اور اللہ ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے (وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ)، اس آیت کی تفسیر عام طور پر یہ مشہور ہوگئی ہے کہ یہ خدا ہی کے علم میں ہے کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی۔ مگر آیت کے الفاظ میں اس تفسیر کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ آیت کے الفاظ بالکل عام ہیں۔ رحم کے اندر کیا ہے، یہ خدا ہی کو معلوم ہے! ان الفاظ میں ہر وہ بات آسکتی ہے جو پیدا ہونے والے کی زندگی اور مستقبل سے متعلق ہو۔ یہاں ایسا کوئی بھی قرینہ موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس کو مذکر اور مونث کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کی قدیم تفسیروں کا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں عام طور پر دو باتیں کہی جاتی رہی ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک تفسیر کا حوالہ نقل کرتے ہیں۔
(وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ) ای من ذكر او انثی خدا ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے، یعنی مذکر شقی او سعید ۔ صفوة التفاسير، محمد علی الصابونی یا مؤنث، بڑا یا بھلا۔
اس آیت میں مذکر اور مونث کا قصہ زیادہ ترعوامی ذوق کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ عوام کو بچوں کے اس سے بہت زیادہ دل چسپی ہوتی ہے کہ ان کے یہاں پیدا ہونےوالی اولا د لڑکا ہے یا لڑکی ، اس لیے یہ تفسیر مشہور ہوگئی ۔ ورنہ خود قدیم تفاسیر میں شقی اور سعید کے الفاظ بھی موجود ہیں ۔ یعنی یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ پیدا ہونے والا برا ہو کر برا نکلے گا یا بھلا ثابت ہوگا۔ " برا اور بھلا " کے الفاظ انتہائی عام اور وسیع ہیں ان میں انسان کی زندگی سے متعلق ہر بات موجود ہے۔ انسان زیادہ عمر کو پہنچ کر جو کچھ بنتا ہے وہ سب ان دو لفظوں میں شامل ہے۔
مذکر اور مؤنث کے بارے میں پہلے بھی انسان انداز ے کرتا تھا اور موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ اس کا اندازہ کر نا ممکن ہو گیا ہے۔ تاہم اصل بات بدستور انسان کے لیے لامعلوم ہے اور وہ یہ کہ مکمل معنوں میں پیدا ہونے والے کے بارے میں پیشین گوئی کی جائے کہ وہ کیسا عورت یا مرد ثابت ہوگا اور کیسا عورت یا مرد ثابت نہیں ہوگا۔ رحم مادر کا یہ راز اب بھی انسان کے لیے لامعلوم ہے ۔