ایمانی برکتیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
ایمانی برکتیں
دنیا میں دو قسم کی چیزیں ہیں ۔ جامد اور نمو پذیر ۔ جامد وہ ہے جو یکساں طور پر اپنی حالت پر باقی رہے ۔ نمو پذیر وہ ہے جو ہمیشہ بڑھتا رہے ۔ پتھر پہلی چیز کی مثال ہے اور درخت دوسری چیز کی مثال ۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں ۔ وہ درخت کی طرح اضافہ پذیر چیز ہے ۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ درخت اپنے مادی وجود کے اعتبار سے بڑھتا ہے اور مومن کا ایمان اپنے شعوری وجود کے اعتبار سے ۔ درخت کا بڑھنا یہ ہے کہ اس کی لکڑی اور پتی بڑھے ۔ ایمان کا بڑھنا یہ ہے کہ اس کی معرفت بڑھے ۔ اس کا یقین بڑھے ۔ اس کا اعتماد علی اللہ بڑھے ۔ اس کی ربانی گہرائیوں میں اضافہ ہو ۔
اس اضافۂ ایمان کے دو خاص راستے ہیں ۔ ایک فکر اور دوسرا صبر ۔ آدمی جب اللہ کو یاد کرتا ہے ۔ جب وہ اللہ کی کاریگری میں غور کرتا ہے تو اس کا شعورِ ایمان بڑھتا ہے وہ معرفت کے نئے نئے پہلوؤں کا تجربہ کرتا ہے ۔ اسی طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں جب وہ مختلف قسم کے ناموافق حالات سے دوچار ہوتا ہے ۔ اور ان حالات میں وہ اپنے ایمانی تقاضوں پر قائم رہتا ہے تو اس کے ذریعہ سے وہ اپنی ایمانی قوت کو بڑھاتا ہے ۔ وہ اپنے ایمان کو پختہ سے پختہ تر کرتا چلا جاتا ہے فکر کی راہ سے اضافہ آدمی کے ایمان میں فکر کی راہ سے جو اضافہ ہوتا ہے ، اس کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ کی ایک آیت یہ ہے :
وَ اِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اِيُّكُمْ اور جب کوئی سورہ اترتی ہے تو ان میں سے بعض