ایمانی برکتیں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶
زادته هـذه إيمانا - فأما الذين آمنوا فزادتهم إيمانا وهم يستبشرون - (التوبة ١٢٤)
کہتے کہ اس سورہ نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا۔ پس جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان اس نے بڑھا دیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں ۔
قرآن میں خالق کا تعارف ہوتا ہے ۔ ایمان کے اندر چھپے ہوئے بندے کے احساسات کو ابھارا جاتا ہے ۔ یہ چیزیں آدمی کے ذہن کو جگاتی ہیں ۔ وہ اس کے لاشعور کو شعور کی سطح پر لے آتی ہیں ۔ وہ اس کے اندر خالق و مخلوق کے تعلق کو زیادہ اجاگر کرتی ہیں ۔ اس طرح قرآن کو سن کر اور پڑھ کر آدمی کا شعور انسان بڑھتا ہے اور برابر بڑھتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے پُر جاتے ۔
صفت پیدا ہو جائے تو اپنے اپنے مقام پر سب ٹھیک ہو جاتا ہے تم نے جو لکھا ہے وہ بھی صحیح ہے اس میں شبہ نہیں حضرت عمر فاروق ی اللہ عنہ کے بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے اصحاب میں سے ایک یا دو آدمی کا ہاتھ پکڑتے اور کہتے کہ آؤ ہم اپنے ایمان میں اضافہ کریں ۔ كَانَ عمر رضی الله عنه يأخذ بيد الرجل والرجلين من اصحابه فيقول تعَالوا حتى نَزدَاد إيماناً، مظهری، رابع ۳۲۶) حضرت عبداللہ بن رواحہ کا ایک واقعہ امام بیہقی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے : عن عطاء بن يسار - ان عبد الله بن رواحة قال لصاحب له تَعَالَ - حتى نؤمن ساعة - فقال عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن رواحہ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم ایک گھڑی کے لیے ایمان أولستُ بمؤمنين قال بلیٰ ۔ ولكنّا نذكر الله فنزدادُ اِيمانًا ۔
لائیں ۔ سالھی نے کہا، کیا ہم مومن نہیں ہیں۔ عبد اللہ بن رواحہ رض نے کہا کہ ہاں ۔ مگر ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں ہیں تو ہم ایمان میں بڑھ جاتے ہیں۔ طرڈئے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس کا مطلب یہ تھا کہ آؤ ہم بیٹھ کر اللہ کی بڑائی بیان کریں۔ ہم اللہ کے کمالات کو یاد کریں۔ ہم اللہ کے آلاء (کرشموں) کا اجتماعی تذکرہ کریں۔ اس سے اللہ کے بارہ میں ہمارا احساس تازہ ہوگا۔ اللہ کے بارہ میں ہمارا یقین بڑھے گا۔ اللہ کے بارہ میں ہماری معرفت مزید ترقی کیجئے اُردوزبان کے فروغ اور ترقی میں میری ذات کو بھی گی ۔
مصورا کا نام منہاج قرآن سکول کے رعت بار ہے اس بات کا ثبوت کہ یہ صفتِ زہد ریہے۔ ۔۔ رت تاریج (۴) زبن کے ہٹاؤ کے لئے کِیا جا سکتا ہے کِہ اس کے بعد اس کے علاج کے لئے صحابہ کرام میں یہ مزاج قرآن کے مطالعہ سے بنا تھا جو اپنے پڑھنے والے کو بار بار اکساتا ہے کہ وہ ذکر و فکر کے ذریعہ اپنے ایمان کو بڑھائے ۔ وہ اپنے ایمان کو مسلسل ترقی دیتا ہے۔ رسول اللہ