Al-Risala · May 1988 · page 27

ایمانی برکتیں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷

صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ آپ اہلِ ایمان کا تزکیہ کرتے ہیں ۔ و یز کّیھم البقرہ ۱۲۹) اس تزکیہ کا خاص پہلو یہی ہے۔ ابن جریر نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : قال ابوذر: ولقد تركنا رسول الله صلى الله حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم وما يقلب طائر جناحيه في السماء علیہ وسلم کو چھوڑا اور حال یہ تھا کہ ایک چڑیا بھی آسمان إلا ذكر لنا منه علماً میں اپنا پر نہیں پھڑ پھڑاتی تھی مگر آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے ۔

ذکر و فکر سے کس طرح ایمان بڑھتا ہے ، اس کی ایک تازہ مثال لیجیے ۔

جدید معلومات کے مطابق، ہماری دنیا نا قابل قیاس حد تک بڑی دنیا ہے ۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ کائنات اتنی زیادہ بڑی ہے کہ ایک ہوائی جہاز اگر روشنی کی رفتا ر سے روانہ ہو ۔ یعنی اس کی رفتار ایک لاکھ ۸۶ ہزار میل فی سیکنڈ ہو تو اس نا قابل قیاس حد تک تیز رفتار جہاز کو کائنات کے گرد ایک چکر لگنے میں ایک ارب سال سے زیادہ لگ جائیں گے ۔ بشرطیکہ وہ جہاز اور اس کے مسافر اتنی لمبی مدت تک باقی بھی رہیں ۔

اس عظیم کائنات میں بے شمار ستارے ہیں ۔ دنیا کے تمام سمندروں کے کنارے ریت کے جتنے ذرے ہیں اس سے بھی زیادہ آسمان میں ستاروں کی تعداد ہے ۔ یہ ستارے بے حد بڑے ہیں ۔ اتنے بڑے کہ ہماری زمین جیسی کروڑوں زمینیں کسی ایک ستارہ پر رکھ دی جائیں تب بھی اس کے اوپر جگہ باقی رہے گی ۔ صرف ہماری کہکشاں میں ۱۰۰۰۰ ملین ستارے پائے جاتے ہیں ۔

یہ تمام کے تمام ستارے آگ کے دہکتے ہوئے اتھاہ سمندر ہیں ۔ ان میں انسانی آبادی کسی طرح ممکن نہیں ۔ اس عظیم کائنات میں ایک ہی معلوم شمسی نظام ہے اور اس میں ہماری زمین جیسی ایک ہی زمین ہے ۔ ساری کائنات میں کوئی بھی دوسرا معلوم کرہ نہیں جس میں پانی ہو، جس میں سبزہ ہو جس میں زندگی پائی جاتی ہو ۔ جہاں وہ تمام چیزیں اور وہ تمام متوازن اسباب موجود ہوں جن سے تمدن کی تعمیر کی جاتی ہے ۔

اس طرح کی ان گنت معلومات ہیں جو موجودہ زمانہ میں ہماری دنیا کے بارہ میں حاصل ہوئی ہیں۔ اگر آدمی ان معلومات کو سامنے رکھ کر غور کرے تو خالق کی عظمت کے احساس سے اس کا دل دہل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page