Al-Risala · May 1988 · page 28

صبر کی راہ سے اضافہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸

اٹھے گا۔ نیز یہی مطالعہ اس کو بتائے گا کہ کائنات کے خالق نے انتہائی استثنائی طور پر اس کے لیے یہاں زندگی اور ترقی کا سامان کیا ہے۔ اس احساس سے اس کے سینے میں شکر کا سمندر موجزن ہو جائے گا۔ یہ چیزیں اس کی معرفتِ حق میں بے پناہ اضافہ کر دیں گی۔

جس زمانہ میں میں اپنی کتاب " مذہب اور جدید چیلنج " کے سلسلہ میں فلکیات اور ارضیات کا مطالعہ کر رہا تھا ، مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے کہ میں کارخانہ کائنات میں خدا کو بالکل عیا نا دیکھ رہا ہوں ۔ اسی زمانہ کا واقعہ ہے ، اعظم گڑھ کے ایک صاحب (شاہ نصیر احمد مرحوم ) نے مجھ سے پوچھا: کیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے ۔ متناً میری زبان سے نکلا " کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا ۔ " حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر واقعی معنوں میں ذکر و فکر کرے تو وہ خدا کو دیکھنے لگے۔ اس کا ایمان غیب سے آگے بڑھ کر شہود تک پہنچ جائے۔

صبر کی راہ سے اضافہ

ایمان میں اضافہ کا دوسرا ذریعہ وہ ہے جس کو صبر کہا جاتا ہے ۔ صبر کا مطلب ہے جمنا ۔ آدمی کے سامنے جب ایسی صورت حال آئے کہ دین پر قائم رہنے کے لیے اسے قربانی دینی ہو ، اسے اپنے جذبات کو کچلنا پڑے ، خدا کا خوف اسے مجبور کر دے کہ وہ اپنی سوچ کو موڑ کر خدائی سوچ کے تابع کرے اس قسم کا ہر عمل صبر ہے اور جب آدمی اس قسم کا عمل کرتا ہے تو وہ خدا کے حق میں اپنی قوت ارادی کو بڑھاتا ہے ، وہ خدا کے تعلق کا نیا تجربہ کرتا ہے ۔

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اسی قسم کی ایک مثال صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے ۔ صلح حدیبیہ تمام تر دشمن کی یک طرفہ شرائط پر کی گئی تھی ۔ چنانچہ صحابہ کرام اس پر سخت برہم تھے ، ان کا دل و دماغ کسی طرح تیار نہ تھا کہ اس قسم کی ذلت آمیز صلح پر راضی ہو جائیں ۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس وقت اللہ کی مرضی یہی ہے تو سب نے جذبات کے طوفان کے باوجود اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دیا۔ انھوں نے اپنے دماغ کا سانچہ خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا۔ اس کا فوری فائدہ انھیں یہ ملاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔ قرآن میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے :

هو الذي انزل السكينة فى قلوب المؤمنين وہ اللہ ہی ہے جس نے مومنین کے دل پر المين

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page