Al-Risala · May 1988 · page 29

صبر کی راہ سے اضافہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹

لیزدادوا ایماً مع ایمانهم (الفتح ۴)

حد حدیبیہ کے موقع پر دشمن نے صلح کی مک اتارا تا ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو جائے ۔

طر وفشر میں پیش نہیں تھیں۔ صحابہ حب اللہ کی خاطر ان حدیبیہ کے موقع پر دشمن کے ساتھ ایک طرفہ سر میں بین میں ھیں ۔ صحابہ جب الہی حاضر ان ایک طرفہ شرطوں پر راضی ہوئے تو انھوں نے ایمان کا تجربہ کیا ۔ پہلے اگر انھوں نے اللہ کو بطور ایک خارجی واقعہ کے مانا تھا تو اب انھوں نے اللہ کو اپنی نفی کی قیمت پر مانا ۔ اس واقعہ کے ذریعہ انھوں نے اس ایمان کا تجربہ کیا کہ کہ اپنی بڑائی ختم ہو تب بھی وہ خدا کے حکم کو مانیں ۔ اپنی خواہشات پامال ہوں تب بھی وہ خدا کے طریقہ کو نہ چھوڑیں ۔ اپنا ذہنی سانچہ ٹوٹے تب بھی وہ اپنی رائے کو خدا کی رائے ︒ کے تابع کریں۔ یہ ہے ایمان پر ایمان کا اضافہ ۔ ۔

ایک حدیث

اضافہ ایمان کے اس معاملہ کو ایک حدیث قدسی میں تمثیل کے انداز میں واضح کیا گیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :

اِذا ‌ابْتَلَيْتُ عبدي المومن نصبر فلم يَشْتكنی الى عُوّادِهِ اطلقتُهُ مِنْ إسارى ثم ابدلتُهُ لحماً خيراً مِن لحمه و ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، جب میں اپنے مومن بندے کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہوں پھر وہ صبر کرتا ہے ، وہ حال پوچھنے والوں سے شکایت نہیں کرتا تو میں الجمة بين يدي دماً خيراً من دمه ثم يستأنف العمل ( رواه الحاكم عن ابي هريرة )

تكتب درهم كتاب مردا آدم وتكلم اس کو اپنی قید سے آزاد کر دیتا ہوں ۔ پھر میں اس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں ۔ پھر وہ از سرِ نو عمل کرنے لگتا ہے۔

کہ حالات میں بھی جوت وروق، سالم ہے، مرجھایا آدمی، ایسا کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ جو حق اس نے پایا ہے وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ بڑا ہے ۔ ہر دوسری چیز کو کھونا نا قابل برداشت ہے ، مگر حق کو کھونا اس کے لیے قابل پ دات نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page