صبر کی راہ سے اضافہ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
اس تجربہ سے پہلے حق اگر اس کی نگاہ میں بہت سی چیزوں میں سے ایک چیز تھا تو اب حق اس کے تمام چیزوں سے زیادہ بڑا اور قیمتی بن جاتا ہے ۔ ایسی آزمائش کے موقعہ پر جو شخص صبر کا ثبوت دے اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھر آتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنے اندر ایک نئے انسان کا تجربہ کرتا ہے اس کا خون اب نیا خون اور اس کا گوشت اب نیا گوشت بن جاتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں اس کے کردار میں نئی جان آجاتی ہے ۔ اس کا عمل ایک نئے انسان کا عمل بن جاتا ہے ۔
۱۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ایک پیغمبر تھے ۔ ان کے یہاں پہلی بیوی سے دو اولاد ہوئی ۔ ایک یوسف ، دوسرے بن یمین ۔ یہ دونوں بھائی ابھی چھوٹے تھے کہ ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد حضرت یعقوب نے دوسرا نکاح کیا جس سے دس لڑکے پیدا ہوئے ۔ سوتیلے بھائیوں کو شکایت ہوئی کہ ان کے والد یوسف کو زیادہ مانتے ہیں ۔ چنانچہ وہ حضرت یوسف کے دشمن ہو گئے ۔ حضرت یوسف کی عمر تقریباً ۱۶ سال تھی کہ ان کے سوتیلے بھائی ان کو ایک سنسان مقام پر لے گئے اور وہاں ان کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا ۔ اس کے بعد انھوں نے آپ کے ایک کپڑے کو جانور کے خون میں رنگا اور اس کو اپنے والد کو دکھا کر کہہ دیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ۔ حضرت یعقوب اپنے بیٹوں میں سے حضرت یوسف کو سب سے زیادہ مانتے تھے ۔ اس لیے قدرتی طور پر ان کو اس کا بے حد صدمہ ہوا ۔ حتیٰ کہ غم سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں ۔ مگر اس درد ناک حادثہ پر انھوں نے کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ قرآن کے مطابق انھوں نے اس پر صبر کر لیا اور زبان سے صرف یہ کہا :
إنما أشكو بثي وحزني إلى الله میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد صرف اللہ سے کرتا ہوں ۔
(یوسف ۸۶)
حضرت یعقوب پر جو غم پڑا تھا وہ بظاہر انسانوں کی طرف سے آیا تھا مگر اس کے بارہ میں وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے اس کو انھوں نے خدا سے کہنا شروع کر دیا ۔ اپنی توجہ کو انھوں نے انسانوں سے ہٹا کر خدا کی طرف کر لیا ۔ اس طرح انھوں نے اس اعلیٰ حقیقت کا تجربہ کیا کہ واقعات خواہ بظاہر انسانوں کی طرف سے پیش آئے ہوں مگر حقیقت وہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں ۔ اور وہی تنہا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ آدمی کے کھو نے کی تلافی کر سکے ۔