جن اور عملیات
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۳
بالفاظ دیگر ، یہود نے حضرت سلیمان کو پیغمبروں کی صف سے نکال کر عام انسانوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔ اگر وہ انہیں پیغمبر کہتے تو ان کے غیر معمولی واقعات معجزہ قرار پاتے اور معجزہ صرف پیغمبر سے صادر ہوتا ہے۔ عام انسان معجزہ دکھانے پر قادر نہیں ۔ مگر جب انہوں نے حضرت سلیمان کو ایک عام انسان قرار دیا ۔ اور ان کے غیر معمولی واقعات کو جادو بتایا تو ان واقعات کا ظاہر کرنا عام آدمی کے بس کی چیز بن گیا۔ کیوں کہ جادو کے کرشمے عام انسان دکھاتا ہے ، اس کے لیے پیغمبر ہونے کی ضرورت نہیں ۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد کچھ مفاد پرست یہودیوں نے یہ کیا کہ جھوٹے قصے کہانیاں بنا کر انہوں نے مشہور کیا کہ حضرت سلیمان جو غیر معمولی کارنامے کرتے تھے وہ کوئی پیغمبری کا معاملہ نہ تھا ، وہ جادو کا معاملہ تھا ۔ پیغمبر کا معجزہ صرف پیغمبر کے لیے خاص ہوتا ہے۔ وہ ایک استثنائی واقعہ ہوتا ہے جس کو دوسرا عام آدمی دہرا نہیں سکتا۔ اس لیے انہوں نے آپ کے کارناموں کو معجزہ کے بجائے جادو بتایا تاکہ اس کے نام پر اپنا عملیاتی کاروبار جاری کر سکیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
واتبعوا ما تتلو الشياطين على ملك سليمان (یہود کے ایک گروہ نے آسمانی کتاب پس پشت وما كفر سليمان ولكن الشياطين كفروا ڈال دی) وہ اس چیز کے پیرو بن گئے جو شیاطین يعلمون الناس السحر سلیمان کی بادشاہت پر پڑھتے تھے۔ اور سلیمان (البقره ۱۰۲) نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو سحر کی تعلیم دیتے تھے۔
اس آیت میں کفر سے مراد سحر ہے جیسا کہ آیت کا اگلا ٹکڑا واضح کر رہا ہے۔ سحر کو کفر اس کی شناعت کی بنیاد پر کہہ دیا۔ جیسے کوئی نوجوان جھوٹ بولے تو کوئی شخص کہے : یہ تم نے کیا شیطانی کی، ایسی شیطانی تو تمہارے باپ نے کبھی نہیں کی تھی۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہودیوں نے آپ کی طرف منسوب کر کے سحر اور عملیات کا کار و بار شروع کر دیا تھا۔ اسی کی بابت فرمایا گیا کہ تم یہ جو سلیمان کی طرف منسوب کر کے کر رہے ہو یہ صرف تمہاری سرکشی ہے ورنہ سلیمان کا تعلق اس قسم کے جادو اور عملیات سے ہرگز نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues