صبر کی راہ سے اضافہ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۱
۲۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی، مگر بعد کو ایک غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی اور مسلمانوں کو زبر دست جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے :
فَاَثَابَكُمْ غماً بغم لكيلا تحزنوا پھر اللہ نے تم کو رنج پر رنج دیا تاکہ جو کچھ تم سے على ما فاستكم ولا ما اصابكم والله خبير کھویا جائے یا جو مصیبت تم پر پڑے اس پر بما تعملون (آل عمران ۱۵۳) تم غم گین نہ ہو۔
احد کی جنگ میں شکست رسول کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ وہ براہ راست اللہ کے علم میں تھی۔ مگر اللہ نے اس کو ہونے دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے شعورِ ایمان میں اضافہ ہو ۔ ان کے اندر یہ طاقت پیدا ہو کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکیں۔ وہ ایک چیز کو کھو کر جانیں کہ دوسری اس سے زیادہ بڑی چیز اب بھی ان کے پاس موجود ہے اور وہ ان کا عقیدہ ہے۔
ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی دنیا کو کھونے کے بعد بھی خدا کو نہ کھوئے ۔ نقصان اس کے لیے اس تجربہ کا ذریعہ بن جائے کہ فانی چیزوں کے درمیان ایک ایسی چیز بھی موجود ہے جو کبھی فنا نہ ہو جو کبھی آدمی سے کھوئی نہ جائے۔ دنیا کے کھونے کو برداشت کر کے اپنے اندر اس قسم کا احساس زندہ کرنا گویا ایک قسم کا ذہنی سفر کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو مزید آگے کی طرف لے جانا ہے۔ جو شخص اس غیر فانی سرمایہ کو پالے وہ محرومیوں کی اس دنیا میں کبھی احساس محرومی سے دوچار نہ ہوگا۔ ۳۔ غزوۂ بنی المصطلق 6 ھ) کے بعد مدینہ کے کچھ شر پسندوں نے ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کو غلط رخ دے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ پر نعوذ باللہ جھوٹا الزام لگایا۔ حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ اور حضرت ابوبکر کی صاحبزادی تھیں ۔ قدرتی طور پر حضرت ابوبکر کو اس کا بے حد رنج ہوا۔ کسی باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف کی بات اور کوئی نہیں کہ اس کی پاکباز لڑکی پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگایا جائے ۔
اس جھوٹی مہم میں مدینہ کے ایک سادہ لوح مسلمان بھی شریک ہوگئے تھے جن کا نام مسطح بن اثاثہ تھا ۔ یہ حضرت ابوبکر کے ایک غریب رشتہ دارتھے اور حضرت ابو بکر ان کی ماہانہ امداد کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے شدت احساس کے سخت قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کوئی مدد