Al-Risala · May 1988 · page 32

صبر کی راہ سے اضافہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲

نہیں کروں گا ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری :

ولا يأتل اُولُوا الفضل منكم والسّعة تم میں سے جو لوگ فضل اور وسعت والے ہیں ان يؤتوا أولى القربى والمساكين و وہ اس کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ دار اور المهاجرين في سبيل الله - وليعفوا مسکین اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی وليصفحوا - الا تحبون ان يغفر الله لكم مدد نہ کریں گے ۔ چاہیے کہ وہ انہیں معاف والله غفور رحيم . کر دیں اور درگزر کریں ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ ( النور ۲۲ ) اللہ تم کو معاف کر دے ۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

حضرت ابو بکر نے یہ آیت سنی تو فوراً کہا : خدا کی قسم ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو ہمیں معاف کر دے وَبَلَى وَاللَّهِ إِنَّا نُحِبُّ أَن تَغْفِرَ لَنَا رَبَّنَا ) اس سے پہلے حضرت ابو بکر ایک ایسے " مسطح " کی مدد کر رہے تھے جس سے انھیں کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ۔ اب مسطح کی مدد کرنا ایک ایسے شخص کی مدد کرنا تھا جس سے انھیں سخت چوٹ پہونچی تھی ۔ پہلے اگر وہ نفس سے لڑے بغیر مسطح کی مدد کر رہے تھے تو اب ان کے فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ وہ نفس سے لڑکر مسطح کی مدد کریں گے ۔ اس طرح انھوں نے سیکھا کہ غصہ کو الگ کر کے ایک شخص کے ساتھ سلوک کریں ۔ انھوں نے جانا کہ صرف معمول کے حالات میں مومنانہ اخلاق نہیں برتنا ہے ۔ بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی مومنانہ اخلاق برتنا ہے ۔ ان کے اس عمل نے ان کے ایمان کو ایک درجہ اوپر کر دیا ۔

۴ - حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذ باللہ برائی کا جو الزام لگایا گیا ، اس سلسلہ میں مدینہ میں بہت سے واقعات پیش آئے ۔ ان میں سے ایک واقعہ روایات میں اس طرح آیا ہے : عن افلح مولى ابی ایوب قالت له امراته حضرت ابو ایوب انصاری کے غلام افلح کہتے ہیں کہ أم أيوب يا أبا أيوب الا تسمع ما يقول ان کی بیوی ام ایوب نے ان سے کہا کہ اے ابو ایوب الناس في عائشة - قال بلى وذالك کیا آپ نے نہیں سنا کہ عائشہ کے بارے الكذب - افكنت يا أم أيوب فاحشة لوگ کیا کہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ اور وہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page