Al-Risala · May 1988 · page 33

صبر کی راہ سے اضافہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۳

ذالك ۔ قالت لا والله ۔ قال عائشة جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب کیا تم ایسا کروگی۔ واللہ خیر منك ان کی بیوی نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ انھوں نے کہا ( تفسیر ابن کثیر ۴۷۳ / ۴ ) کہ پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے بہتر ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ پر جو الزام لگایا گیا اس کے معاملہ میں ایک طریقہ ان لوگوں کا تھا جن کا حال یہ تھا کہ انھوں نے جو کچھ سنا اس کو بلا تحقیق بیان کرنے لگے۔ مگر حضرت ابو ایوب نے اپنے آپ کو اس سے اوپر اٹھایا۔ انھوں نے معاملے کو اپنی عقل سے جانچا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ وہ خود ایسا نہیں کر سکتے اس لیے انھوں نے کہہ دیا کہ عائشہ نے بھی ایسا نہیں کیا۔ یہ ایک شعوری صبر کا واقعہ تھا۔ حضرت ابو ایوب نے جب ایسا کیا تو حدیث کے الفاظ میں ان کا خون زیادہ بہتر خون اور ان کا گوشت زیادہ بہتر گوشت بن گیا۔ ان کے اندر وہ شخصیت پیدا ہوئی جو دوسرے کے معاملے کو اپنا معاملہ بنا کر دیکھے۔ وہ ہر معاملے کو اصول کی روشنی میں جانچے نہ کہ سطحی خواہشات کی روشنی میں ۔

خلاصہ

ایک اسلام معمول والا اسلام ہے۔ دوسرا اسلام وہ ہے جب کہ آدمی معمول کے خلاف اسلام پر عمل کرے ۔ خدا کی دنیا کو ظاہری طور پر دیکھنا بھی خدا کی یاد دلاتا ہے۔ مگر جب آدمی دنیا کے ظاہر سے گزر کر اس کے اندرونی عجائب پر غور کرتا ہے تو اس کی معرفت کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ معتدل حالات میں اخلاق برتنا بھی ایک اچھا کام ہے۔ مگر جب آدمی ایک ایسے شخص سے اخلاق برتے جس سے اس کے تعلقات خراب ہو گئے ہوں تو وہ ایسے ایمان کا تجربہ کرتا ہے جس کا اس نے پہلے تجربہ نہیں کیا تھا۔ ایک ایسے شخص سے انصاف کرنا بھی انصاف ہے جس سے آپ کا بناؤ ہو۔ مگر جب آپ ایک ایسے شخص سے انصاف کریں جس سے آپ کا بگاڑ ہے تو اس وقت آپ کا عمل سادہ معنوں میں محض انصاف کا عمل نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کو خدا سے براہ راست ملانے کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ عمل کے دوران ایمان کی یہی مزید خوراک ہے جس کو اضافہ ایمان کہا جاتا ہے۔ ایمان ہمیشہ بڑھتا ہے۔ مگر یہ بڑھنا ہمیشہ اس نسبت سے ہوتا ہے جتنا آدمی کے اندر حوصلہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page