Al-Risala · May 1988 · page 34

حصّہ دوم

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۴

حصّہ دوم

ایمان اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ ایمان ایک طرف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں پتھر کی طرح جامد نہ رہے ، بلکہ درخت کی طرح ہمیشہ بڑھنے والا اور ترقی کرنے والا وجود بن جائے ۔ اسی طرح ایمان آدمی کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کرتا ہے جو دنیا میں ہر قسم کی میابی کا واحد یقینی ذریعہ ہے ۔ اس صفت کا نام ایک لفظ میں صبر ہے ۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ان اللہ مع الصابرین (اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : اعلم ان النصر مع الصبر (جان لو کہ خدا کی مدد صبر کے ساتھ وابستہ ہے ) یعنی اللہ بلا شبہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے ۔ اللہ کی مدد کا کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے ۔ مگر اللہ کی مدد کا دروازہ صرف اس شخص یا گروہ کے لیے کھلتا ہے جو مشکل پیش آنے کے وقت صبر کا ثبوت دے ۔ مدد ہمیشہ اللہ کی طرف سے آتی ہے مگر اس کو لینے کے لیے بندے کی طرف سے صبر کا پیمانہ درکار ہے ۔

یہ کوئی پُر اسرار قسم کی اعتقادی بات نہیں ۔ بلکہ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا عام قانون ہے ۔ اس قانون کو زیادہ واضح طور پر قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں بیان کیا گیا ہے جس کا نام الانشراح ہے۔ اس سورہ میں اسی بات کو ان لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ ان مع العسر یسراً (بلا شبہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ) یعنی اس دنیا میں خدا نے آسانیوں کو مشکلات کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے ۔ یہاں جو شخص آسانی کی منزل تک پہنچنا چاہے اس کو جاننا چاہیے کہ وہ دشواریوں سے بھرے ہوئے راستے سے گزر کر ہی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ۔ یہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون ہے اور اس قانون میں کوئی استثناء نہیں ۔

مشکل میں آسانی

سورہ الانشراح یا سورہ الم نشرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اس دور میں اتری جس کو مکی دور کہا جاتا ہے ۔ اس وقت مکہ کے حالات بہت سخت تھے ۔ اس وقت کے مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو ناقابل بیان تکلیفوں میں مبتلا کیے ہوئے تھے ۔ تکلیف

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page