ان مع العسر يرا بے شک شکل کے ساتھ آسانی ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۵
کی کوئی قسم ایسی نہ تھی جو یتیم مکہ کے لوگوں نے آپ پر نہ ڈالی ہو۔ حضرت طارق بن عبد اللہ المحاربی کہتے ہیں کہ میں نے بعثت کے ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذو المجاز کے بازار میں پہلی بار دیکھا تھا۔ آپ لوگوں کے درمیان یہ کہتے ہوئے گزر رہے تھے کہ : یا ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا (اے لوگو کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے) آپ یہ کہتے جاتے تھے اور ایک شخص آپ کے پیچھے آپ کو پتھر مارتا ہوا چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ کہتا جاتا تھا : یا ایھا الناس لا تطیعوہ فانہ کذاب (اے لوگو اس کی بات نہ مانو کیوں کہ وہ جھوٹا ہے)
حضرت عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے کہا کہ قدیم مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تکلیف پہنچاتے تھے اس کا کچھ حال بیان کیجئے ۔ عبد اللہ بن عمرونے کہا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آیا۔ اس نے آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر اتنے زور سے کھینچا کہ آپ کا گلا گھٹنے لگا۔ اس طرح کے بہت سے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ قدیم مکہ میں اسلام کے دشمن آپ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے تھے۔ مکہ کے ابتدائی سالوں میں یہ حال تھا کہ نماز پڑھنا یا قرآن کی تلاوت کرنا بھی مشرکین کو گوارا نہ تھا۔ ابن ہشام اپنی سیرت کی کتاب میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نماز پڑھنا ہوتا تو وہ پہاڑ کی گھاٹیوں میں چلے جاتے ۔ وہ اپنی نماز کو اپنی قوم سے چھپاتے تھے ۔ (کان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلّوا ذهبوا في الشعاب واستخفوا بصلا تهم من قومهم ، صفحہ، ۲۷۵)
قدیم مکہ کے مشرکین صرف برا بھلا کہنے پر نہیں رکتے تھے ، وہ باقاعدہ مار پیٹ بھی کرتے تھے۔ وہ ہر طرح مسلمانوں کو ستاتے تھے جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے ۔ یہی سخت حالات تھے جب کہ قرآن میں یہ آیت اتری :
فان مع العسر يرا پس ممشکل کے ساتھ آسانی ہے۔