انسانی علم کی تصدیق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۶
ابن جریر نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:
خرج النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوماً مسروراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکلے ۔ آپ وهو يضحك وهو يقول: لن یغلب عسر خوش تھے اور ہنس رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے یسرین لن یغلب عسر لیسرین فان کہ ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی، مع العسر ان مع العسر! ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔
کیوں کہ قرآن میں ہے کہ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یہ آیت موجودہ دنیا میں خدا کے قانون کو بتا رہی ہے، اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جب بھی آدمی کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے مشکلات آتی ہیں۔ مگر ہر مشکل میں آسانی کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔ یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج چھپا ہوا ہوتا ہے اس لیے یہاں آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب بھی مشکل پیش آئے تو وہ مشکل میں چھپی ہوئی آسانی کو دریافت کرے، وہ ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج کو پالے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ جو لوگ اس راز کو دریافت کر سکیں وہ کامیاب ہیں اور جو لوگ اس راز کو دریافت نہ کر سکیں وہی وہ لوگ ہیں جو ناکام ہو گئے۔
انسانی علم کی تصدیق
زندگی کی یہ حقیقت جو قرآن میں بیان کی گئی ہے، یہ اتنی واضح ہے کہ علماء نفسیات جنہوں نے انسان کا مطالعہ خالص علمی انداز سے کیا ہے انھوں نے بھی اس راز کو پالیا ہے۔ اور اس کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔
یہاں میں مشہور عالم نفسیات ڈاکٹر البرڈ ایڈلر (۱۹۳۷-۱۸۷۰) کا حوالہ دوں گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پہلا شخص ہے جس نے احساس کمتری (Inferiority feeling) کا لفظ استعمال کیا۔ اور اس کی سختی سے تردید کی۔
البرڈ ایڈلر نے پوری زندگی اس مطالعہ میں صرف کر دی کہ انسان کیا ہے اور وہ کس طرح اپنی قوتوں کو استعمال کرتا ہے۔ وہ ایک ممتاز ترین ماہر نفسیات کہتا۔ اس نے تمام عمر کے مطالعہ کے بعد ایک کتاب