Al-Risala · May 1988 · page 37

..... their power to turn a minus into a plus.

الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۷

لکھی جس کا نام ہے (The Individual Psychology) اس میں اس نے لکھا ہے کہ انسانوں کے اندر میں نے ایک انتہائی حیرت ناک خصوصیت پائی ، ان کی یہ طاقت کہ وہ ایک نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکیں :

..... their power to turn a minus into a plus.

الفرڈ ایڈلر نے جس چیز کو انسان کی طرف منسوب کیا ہے ۔ وہ دراصل خدا کا عطیہ ہے ۔ انسان بلاشبہ اس دنیا میں اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کرتا ہے۔ مگر یہ معجزہ انسانی طاقت کی بنا پر نہیں تھا۔ ۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو اس ڈھنگ سے بنایا ہے کہ اس کے اندر یہ امکان بے پناہ حد تک موجود ہے کہ ناموافق حالات کبھی بھی انسان کے لیے آخری اور کلی معنوں میں ناموافق نہ بنیں ، یہاں ہمیشہ ناموافق میں موافق پہلو موجود رہے تاکہ انسان اس کو استعمال کرکے کامیابی کی منزل تک پہنچ سکے ۔ یہاں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تاریخ کے بعض واقعات کا ذکر کریں گے جو اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ جو عصر پیش آیا، کس طرح اس کے اندر خدا نے یُسْر کا پہلو رکھ دیا ہوتا ۔ اور اللہ کے یہ بندے جب منفی نفسیات کا شکار نہیں ہوئے تو انھیں اس پہلو کو جاننے میں دیر نہیں لگی ۔ انھوں نے یُسْر کے پہلو کو استعمال کرکے تاریخ کے رُخ کو موڑ دیا۔ جو واقعہ بظاہر ان کے خلاف جا رہا تھا اس کو انھوں نے اپنے موافق بنا لیا۔

مخالفت سے رفع ذکر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے مکہ میں اسلام پھیل گیا اور لوگوں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ یہاں ابن ہشام نے یہ الفاظ لکھے ہیں : ثم دخل الناس في الاسلام أرسالاً من الرجال والنساء حتی فشا ذكر الاسلام بمكة ، وتُحدث به ، صفحه ۴۷ ، ۲ (پھر عورتوں اور مردوں کی ایک جماعت اسلام میں داخل ہو گئی ، یہاں تک کہ اسلام کا ذکر مکہ میں پھیل گیا اور اس کا چرچا کیا جانے لگا ۔

قریش نے جب یہ دیکھا کہ اسلام کی رفتار دن بدن بڑھ رہی ہے تو ان کے سردار ولید بن مغیرہ کے مکان پر جمع ہوئے ۔ انھوں نے یہ مشورہ کیا کہ حج کا موسم قریب آگیا ہے اور تمام عرب کے قبائل مکہ میں جمع ہوں گے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ محمد کی باتوں سے متاثر ہو جائیں۔ اس لیے ہمیں پہل کر کے آنے والے قبائل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1988 All issues

Printed page