مخالفت سے رفع ذکر
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۸
سے کوئی ایسی بات مکہی دینی چاہیے کہ وہ محمد کی طرف سے بدگمان ہو جائیں اور ان کی طرف دھیان نہ دیں۔ اس سلسلہ میں مختلف سرداروں نے مختلف رائیں دیں۔ آخری مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ عرب کے خود جب حج کے موسم میں کہ میں جمع ہوں تو تمام سرداران کے درمیان کے درمیان کے در میان قومی تفریق پیدا کرنے والا تاکہ لوگوں کو ان سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔
اس وقت مکہ میں اسلام بہت کمزور حالت میں تھا۔ ایسی حالت میں مکہ کے تمام سرداروں کا متفق ہو کر اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا بظاہر ایک مایوس کن بات تھی۔ عرب کے قبائل پر مکہ کے سرداروں کا بردست اثر تھا۔ اس لیے ان کا متفقہ طور پر اسلام کے خلاف کھڑا ہونا بظاہر یہ معنی رکھتا تھا کہ لوگ اسلام سے بدک جائیں اور اس کے پیغام کو سننے کے تیار نہ ہوں۔
مگر یہ واقعہ کا ایک پہلو تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس طرح اسلام کی زبردست تشہیر ہو گئی۔ اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کو جان لیا جن کو بتانا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ممکن نہ تھا۔ مکہ کے سردار اگر چہ اسلام کی مخالفت میں بولتے تھے۔ مگر انسان کی یہ نفسیات ہے کہ جس چیز کی مخالفت کی جائے اس کے بارے میں اس کے اندر تجسس (Curiosity) پیدا ہوتا ہے۔ وہ سنی ہوئی بات پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ چنانچہ اسلام کو جاننے کے لیے ان کے اندر مزید اشتیاق بڑھ گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدرتی طور پر سرداروں کی اس مخالفانہ مہم پر غم زدہ تھے۔ مگر قرآن نے اس واقعہ کے دوسرے پہلو کو لیا اور قرآن میں یہ آیت اتری:
وَرَفَعْنَالَكَ ذَكْرَكَ (اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کیا) قریش کی مہم ایک اعتبار سے مخالفانہ پروپیگنڈے کی مہم تھی۔ مگر دوسرے اعتبار سے وہ اسلام کا چرچا کرنے کی مہم تھی۔ قرآن نے دوسرے پہلو کو لیتے ہوئے بتایا کہ اس مہم کے تاریک پہلو میں ایک روشن پہلو چھپا ہوا ہے۔ جو چیز ایک پہلو سے مخالفانہ پروپیگنڈا ہے وہ دوسرے پہلو سے رفع ذکر ہے۔ تم اس دوسرے پہلو کو جانو اور اس کو استعمال کرو۔ اس طرح اس وقت کے مسلمانوں کو سوچ کی ایک مثبت لائن مل گئی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ قریش کے پیدا کیے ہوئے تجسس کو وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ پہلے سے زیادہ متحرک ہو گئے۔ جو لوگ قریش کے پروپیگنڈے کی وجہ سے اس سوال سے دو چار تھے کہ "یہ نیا دین کیا ہے"