تاخیر نعمت بن گئی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۳۹
ان کو بتایا کہ اسلام کا اصل پیغام یہ ہے۔ اس طرح اچانک اسلام کا رفع ذکر ہو گیا۔ مسلمانوں کی اپنی کوشش سے برسوں میں جتنا اسلام پھیلا تھا ، دشمنوں کی مخالفت کے بعد وہ اس سے کئی گناہ زیادہ مقدار میں گھوڑے دنوں میں پھیل گیا ۔
تاخیر نعمت بن گئی
قدیم مکہ کے لوگوں نے اسلام کے خلاف جو تدبیریں کیں ان میں سے ایک تدبیر یہ تھی کہ انھوں نے اپنے دو خاص آدمی ، نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط مدینہ بھیجے ۔ وہ وہاں یہودی علماء سے ملے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اہلِ تورات ہو ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں تاکہ تم ہمارے آدمی کے بارہ میں بتاؤ۔ یہود نے کہا کہ تم لوگ ان سے چند چیزوں کی بابت سوال کرو۔ اگر وہ ان کے بارہ میں بتا دیں تو وہ واقعی خدا کے پیغمبر ہیں اور اگر وہ نہ بتا سکیں تو وہ صرف باتیں بنانے والے ہیں ۔
( فَإِنْ أَخْبَرُكُمْ بِهِنَّ فَهُوَ نَبِيُّ مُرْسَلٌ وَالْآخَرُ رَجُلٌ مُتَقُولُ ) ان باتوں میں سے ایک سوال اس شخص کے بارے میں تھا جو مشرق سے لے کر مغرب تک پہنچا۔ دوسرا سوال ان نوجوانوں کے بارے میں تھا جو غار میں جا کر سو گیے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سوالات کو سنا تو فرمایا : اخبركم غداً عما سألتم عنه ۔ جن چیزوں کے بارے میں تم نے پوچھا ہے ان کے بارے میں تم کو میں کل بتاؤں گا ۔ محدثات میں آتا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا مگر ان شاء اللہ نہ کہا۔ آپ کو خیال تھا کہ حضرت جبریل کل آئیں گے تو ان سے پوچھ کر بتا دوں گا۔ مگر خلاف معمول حضرت جبریل کل کے دن نہ آئے ۔ حتیٰ کہ پندرہ دن گزر گیے اور حضرت جبریل نہ آئے ۔
یہ بے حد نازک معاملہ تھا۔ یہودی علماء نے جن شخصیتوں کی بابت سوال کیا تھا وہ اس وقت عام لوگوں کے لیے سراسر نامعلوم شخصیتیں تھیں۔ ان کا ذکر صرف یہود کے بعض نوشتوں میں تھا۔ چونکہ اس وقت تک پریس کا دور نہیں آیا تھا ، یہ نوشتے صرف بعض یہودی علماء کے پاس تھے ۔ عام لوگوں کو ان کی مطلق کوئی خبر نہ تھی ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی بابت اس وقت کسی قسم کی کوئی اطلاع نہ تھی ۔