جن اور عملیات
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۴۴
حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر تھے ۔ وہ جو کچھ کرتے تھے ، خدا کی مدد سے کرتے تھے ۔ اس کے برعکس سحر نام ہے غیر اللہ میں تصرف کی طاقت فرض کر کے اس کی بنیاد پر باطل کرشمے دکھانے کا مثلاً ستاروں میں تاثیر کا عقیدہ ، جنّات کو مسخر کرنے کا عقیدہ ، وغیرہ ۔ مشرک قوموں اور توہم پرست طبقوں میں اس کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مگر جب اسلام آیا تو اس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیدیا ۔ یہاں سحر (جادو) سے متعلق کچھ حدیثیں نقل کی جاتی ہیں : انی خلقت عبادی حنفاء فاجتباهلتهم حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں الشیاطین عن دینهم ۔
(تفسیر ابن كثیر، الجزء الثالث، صفحه ۴۳۲)
نے اپنے بندوں کو سیدھا اور صحیح پیدا کیا ہے۔ پھر شیطانوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اتى عرافاً جو شخص نجومی یا کا ہن کے پاس جائے تو اس نے اركانهافتد كفر بما انزل على محمد اُس چیز کا انکار کیا جو محمد پر اتاری گئی ہے ۔ جس شخص کی زندگی کا اگاڑی اور پچھلا حصہ سحر حد الساحر ضربة بالسيف (تفسیر ابن كثیر، الجزء الاول ، صفحه ۳۴۴)
اِری تو اس نے جادو کیا اور جادو اسلام میں نہیں )
ساحر کی حد اس کو تلوار سے مارنا ہے۔
قرآن وحدیث کی ان تصریحات کی بنا پر فقہاء اسلام نے لکھا ہے کہ جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ شیاطین اس کے لیے جو چاہے کر سکتے ہیں تو وہ کافر ہے ( من اعتقد ان الشیاطین تفعل له مایشاء فهو کافر، تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول، صفحه ،۱۶) سُ ، پ ، یہ ، د ، سر ۱۹۸۸ الر ساله جنوری
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues