تشویہ حقائق
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۵
تشویہ حقائق
دار العلوم ندوۃ العلماء (لکھنو) سے ایک عربی اخبار نکلتا ہے جس کا نام الرائد ہے۔ اس کے شمارہ ۲۱ صفر ۱۴۰۸ھ (۱۶ اکتوبر ۱۹۸۷) میں صفحہ اول پر ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔ اسلام کے معاندینِ اسلام کو پیش کرنے میں جو طریقہ اختیار کرتے ہیں ، اس کو اس مضمون میں بجا طور پر تشویہ الحقائق سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی حقیقتوں کو مسخ کر کے پیش کرنا۔ معاندینِ اسلام کا یہی عام طریقہ ہے جو دورِ اول کے یہود سے لے کر موجودہ زمانہ کے مستشرقین تک میں پایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ وہ اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے حقیقت کو اس کی اصلی اور واقعی صورت میں پیش کیا تو وہ لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے ۔ اس لیے وہ اسلام کی تعلیم یا اسلام کی تاریخ کو بگاڑ کر خود ساختہ صورت میں پیش کرتے ہیں تاکہ آسانی کے ساتھ اس کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے ۔ مثال کے طور پر ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک مشہور واقعہ ہے ۔ اس واقعہ کو اگر سادہ طور پر ” ہجرت “ کہا جائے تو اس سے یہ تصور سامنے آتا ہے کہ یہ مقامِ عمل کی تبدیلی تھی جو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کی گئی ۔ مگر معاندینِ اسلام بالقصد اس کے لیے ایسا لفظ استعمال کرتے ہیں جو فرار کے ہم معنی ہو ۔ اس طرح ہجرت کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے ۔ اب اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ نعوذ باللہ یہ ایک بزدلانہ فعل تھا جو انفعالی نفسیات کے تحت اختیار کیا گیا ۔
الرسالہ کے مشن کے خلاف آج کل بہت کچھ لکھا اور بولا جا رہا ہے ۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ بلا استثنا اسی طریقہ (تشویہ حقائق) کو استعمال کر رہے ہیں جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔ یعنی الرسالہ کی بات کو بگاڑ کر پیش کرنا اور اس خود ساختہ بات کو الرسالہ کی بات قرار دے کر اس کی تنقید و تنقیص کرنا۔ مزید حیرت یہ ہے کہ خود ندوہ کے مذکورہ عربی اخبار (الرائد) نے بھی اسی آزمودہ طریقہ کو نہایت بے تکلفی کے ساتھ ہمارے خلاف استعمال کیا ہے ، اور اس کا یہ استعمال عین اسی شمارہ میں ہے جس میں اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کو تشویہ حقائق کا مجرم قرار دے کر اس شدت کے ساتھ ان کو نشانہ ملامت بنایا تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues