Al-Risala · January 1988 · page 26

تشویہ حقائق

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶

الرائد کے مذکورہ شمارہ میں آخری صفحہ پر ”اخبار و تعلیقات “ کے تحت ایک مضمون درج ہے۔ اس میں راقم الحروف (وحید الدین خاں) کے ایک مطبوعہ مقالہ (ٹائمز آف انڈیا ۵ ستمبر ۱۹۸۷) کا حوالہ دیتے ہوئے میرے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ ــــــــ انھوں نے اس میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کی نسبت سے شکایت اور ناگواری کا طریقہ چھوڑ دیں اور اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجائیں اور حالات کی تبدیلی کا اعتراف کرلیں اور شکست کو قبول کر لیں اور حقیقتِ حال کا سامنا کریں اور اپنے سیاسی موقف سے ہٹ جائیں اور پچھلی سیٹوں پر بیٹھ جائیں اور نئے حالات کی روشنی میں نئے دور کا آغاز کریں۔ الرائد کے اصل الفاظ یہ ہیں : نصح فيه المسلمين بان يتركوا طريق الشكوى، والكراهية بالنسبة للاغلبية ويتنازلوا عن مطالبهم ويعترفوا بتغير الوضع، ويقبلوا الهزيمة، ويواجهوا حقائق الوضع، وينسحبوا من موقفهم السياسى، ويقعدوا في المقاعد الخلفية ويبدء و عهداً جديداً في ضوء الظروف الجديدة ۔

الرائد کی مذکورہ عبارت تشو یہ حقائق کی کھلی ہوئی مثال ہے۔ اس کو پڑھ کر ایک آدمی سمجھے گا کہ راقم الحروف نے مسلمانوں سے یہ کہا ہے کہ وہ نئے حالات کے آگے ہتھیار ڈال دیں اور اکثریتی فرقہ کے مقابلہ میں ہزیمت اور پسپائی کی حیثیت کو قبول کرنے پر راضی ہو جائیں۔ حالاں کہ ٹائمز آف انڈیا (15 ستمبر ۱۹۸۷) کے مفصل مقالہ کو پڑھ کر کوئی بھی شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں نے جو بات کہی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ میں نے تدبیری حکمت کی بات کہی ہے نہ کہ کسی قسم کی انہزامی پوزیشن اختیار کرنے کی۔

الرائد کی مطبوعہ ”خبر“ سے بظاہر یہ متبادر ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دوراستے ہیں ۔ ایک کفاح اور مطالبہ حقوق کا راستہ۔ دوسرا، استلام اور انہزام کا راستہ۔ اس کے مطابق میرا کہنا یہ ہے کہ مسلمان کفاح اور مطالبہ کا راستہ چھوڑ کر استلام اور انہزام کا راستہ اختیار کرلیں۔ یہی ان کے لیے موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ الرائد کی یہ بات یقینی طور پر تشویہ حقائق ہے نہ کہ اصل واقعہ کی ترجمانی۔

ٹائمز آف انڈیا کے زیر بحث مضمون میں جو بات کہی گئی ، وہ اس کے برعکس یہ تھی کہ مسلمان

‹ Previous page Next page › Contents of January 1988 All issues

Printed page