Al-Risala · June 1988 · page 19

شعور اور عمل

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۱۹

شعور اور عمل

قرآن میں بنی اسرائیل کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہم کو جنگ کا حکم دیجئے ۔ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر ان کی اکثریت جنگ کرنے کے لیے تیار نہ ہوئی (البقرہ ۲۴۶)

اس کے برعکس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ جب ان کو جنگ کا سامنا ہوا اور ان سے لڑنے کے لیے کہا گیا تو وہ فوراً مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدا اور رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا (الاحزاب ۲۲) اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ پیدائشی مومن تھے۔ جب کہ پیغمبر اسلام کا ساتھ دینے والے وہ لوگ تھے جو شعوری انقلاب کے بعد مومن بنے تھے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں کے کردار میں اتنا بڑا فرق پیدا کر دیا۔ عمل کا معاملہ لازمی طور پر شعور کے ساتھ وابستہ ہے۔ آدمی کا شعور جتنا گہرا ہوگا اس کا عمل بھی اتنا ہی گہرا ہوگا۔ اور اس کا شعور جتنا سطحی ہوگا اس کے عمل میں بھی اتنی ہی سطحی آتی چلی جائے گی۔

اس فرق کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ عمل کے لیے صرف حکم کافی نہیں کسی حکم کو قبول کرنے کے لیے اسی درجہ کا شعور بھی لازمی طور پر درکار ہے۔ جس شخص کو حکم دیا جا رہا ہے ، اس کا شعوری ارتقاء اگر حکم سے کم درجہ کا ہو تو وہ حکم کی معنویت کو پوری طرح سمجھ نہ سکے گا۔ وہ اس کو اپنے دماغ میں وہ اہمیت دینے سے قاصر رہے گا جو باعتبار حقیقت اسے دینا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ نفسیاتی طور پر اس کی تعمیل کے لیے بھی تیار نہ ہوسکے گا۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں جو لوگ ایمان قبول کرتے ہیں وہ شعور اور ارادہ کے تحت ایمان قبول کرتے ہیں ان کی بعد کی نسلوں میں یہ شعور مدہم پڑ جاتا ہے یا ختم ہو جاتا ہے۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ دوبارہ ان کے شعور کو جگایا جائے، ان کے تقلیدی ایمان کو ارادی فیصلہ کے تحت اختیار کرنے والا ایمان بنا دیا جائے __ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان کے اندر شعوری ایمان کو جگانے کی کوشش جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page