لفظ یا حقیقت
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۰
لفظ یا حقیقت
رابندر ناتھ ٹیگور (۱۹۴۱ء۔ ۱۸۶۱ء) کو حکومت برطانیہ نے ۱۹۱۵ء میں سر کا خطاب دیا تھا۔ ۱۹۱۹ء میں جب انگریزی حکومت نے امرت سر میں نہتے ہندوستانیوں پر بے رحمانہ گولی چلائی تو ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کر دیا۔
ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸ء۔ ۱۸۷۷ء) کو حکومت برطانیہ نے ۱۹۲۲ء میں سر کا خطاب عطا کیا۔ اقبال نے اس کو قبول کر لیا اور پھر کبھی اس کو واپس نہیں کیا۔ راقم الحروف ذاتی طور پر سر کا خطاب لینے کو غلط نہیں سمجھتا۔ مگر اقبال نے اپنی شاعری میں جس قسم کی باتیں کیں، اس کے لحاظ سے انگریزی حکومت کا دیا ہوا سر کا خطاب ان کے لیے بالکل غیر مناسب تھا۔ مثال کے طور پر ان کا شعر ہے :
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں اقبال کے اپنے معیار کے مطابق، سر کا خطاب قصر سلطانی کے گنبد پر نشیمن بنانے کے ہم معنی تھا، مگر دوسروں کو تو وہ اس قسم کی نشیمن سازی سے باز رہنے کا اپیدیش دیتے رہے۔ لیکن خود ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ آخر وقت تک قصر سلطانی کے گنبد پر اپنا نشیمن بنائے رہے۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو رہنما اٹھے ان کا حال کیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنما اصلاً یا تو شاعر تھے، مثلاً اقبال ۔ یا خطیب تھے، مثلاً محمد علی ۔ یا انشا پرداز تھے، مثلاً ابوالاعلیٰ مودودی۔ وہ مفکر اور بالغ نظر نہ تھے، جیسا کہ ایک رہنما کو ہونا چاہیے ۔ شاعری اور خطابت اور انشا پردازی در اصل لفاظی کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ یہ تمام رہنما لفظی بلند پروازی کے کرشمے دکھاتے رہے، حقائق حیات کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کو ٹھوس رہنمائی نہ دے سکے۔
اس تخیلاتی رہنمائی کا نتیجہ یہ ہو اکه رہنما حضرات کی اپنی شخصیت تو بن گئی مگر ملت کا تمام معاملہ برباد ہو کر رہ گیا۔ ہوائی کرشمے دکھانے والا ایک شخص بذات خود اخبار کی سرخیوں میں جگہ پا سکتا ہے، مگر ہوائی کرشمے دکھانے سے کسی قوم کے مستقبل کی تعمیر نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues