Al-Risala · June 1988 · page 26

votes were divided.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۶

ایک سفر

حلقۂ الرسالہ کی دعوت پر ستنا اور ریوا کا سفر ہوا۔ یہ دونوں مدھیہ پردیش کے شہر ہیں۔ ستنا اس سے پہلے بگھیل کھنڈ کے لئے برطانویے کے پولیٹیکل ایجنٹ کا صدر مقام (۱۹۲۱۔ ۱۸۷۱) تھا۔ ستنا ضلع میں، شہر سے قریب ایک تاریخی گاؤں بھر ہت (Bharhut) ہے۔ یہاں بدھوں کے ایک استوپا کے کھنڈرات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ابتداءً اشوک کے زمانہ میں ۲۵۰ ق م میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد دوسری صدی عیسوی میں اس کی مزید توسیع ہوئی۔ یہاں بہت سے کتبات ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں تاریخی مورتیاں اور سنگ تراشی کے نمونے پائے گئے ہیں جن میں سے کچھ الہ آباد کے میوزیم میں ہیں اور کچھ کلکتہ کے میوزیم میں محفوظ کر دئے گئے ہیں۔

یہ تاریخی استوپا صدیوں سے لا معلوم پڑا ہوا تھا، پہلی بار اس کو میجر جنرل الکزینڈر کننگھم (Alexander Cunningham) نے ۱۸۷۳ء میں دریافت کیا۔ موجودہ زمانہ میں ایشیائی قوموں کے تاریخی آثار اور علمی نوادر کا پتہ لگانے اور انہیں محفوظ کرنے کا کام زیادہ تر مغربی لوگوں نے کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کے غلبہ کاراز ان کی یہی افادیت ہے نہ کہ محض ظلم۔ ظلم محض کی بنیاد پر کبھی کوئی قوم غلبہ اور ترقی کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ ریوا تعلیم کے اعتبار سے، ستنا سے آگے ہے۔ سابق راجہ نے ۱۸۵۹ میں ریوا کو اپنی راجدھانی قرار دیا تھا۔ اس وقت سے ریوا کی اہمیت کافی بڑھ گئی ۔ ۱۹۶۸ میں یہاں پرتاپ سنگھ یونیورسٹی قائم ہوئی۔ بندھو گڑھ میں ۲۰۰۔ ۲۰۰ء کے زمانہ کے کتبات موجود ہیں۔ بگھیل راجپوتوں نے یہاں ۱۹۰۰ء میں اپنی اسٹیٹ قائم کی تھی جو آزادی کے بعد ختم ہوگئی۔ ۲ مارچ ۱۹۸۸ کی شام کو 150 آپ سے روانگی ہوئی ۔ یہ ٹرین نظام الدین اور جبلپور کے درمیان چلتی ہے۔ پہلے اس کا نام قطب ایکسپریس تھا۔ حال میں اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔ گاڑی وہی ہے ، مگر اب اس کا نام مہا کوشل ایکسپریس ہے۔ دوسرے ملکوں کے لوگ جانتے ہیں کہ اگر حقیقت کو بدلنا ہے تو انھیں خود حقیقت کو بدلنا پڑے گا۔ مگر ہندستان اور پاکستان کو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page