votes were divided.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۷
انوکھی خوش قسمتی حاصل ہے کہ یہاں حقیقت کو بدلنے کے لئے یہ کافی ہے کہ الفاظ بدل دئے جائیں۔ ہندوستان میں ایک لفظ کے بدلنے سے " قطب ایکسپریس " " مہاکوشل ایکسپریس " ہو جاتی ہے۔ اور پاکستان میں معمولی لفظی تبدیلی سے "کرشن نگر " اچانک " اسلام نگر " بن جاتا ہے۔ تاہم زمانہ شاید اپنی سست رفتاری کی بنا پر ان ملکوں کی بلند پروازی کا ساتھ نہ دے سکا۔ ہندوستان اور پاکستان الفاظ کے اعتبار سے اپنے ترقیاتی سفر کے آخری زینہ پر پہنچ چکے ہیں، مگر واقعہ کے اعتبار سے دیکھئے تو ابھی وہ پہلے زینہ پر بھی اپنا قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مانک پور سے ٹرین آگے بڑھی تو ۲۸ مارچ کا سورج نکل رہا تھا۔ صبح اور شام کی تقسیم زمین کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر بظاہر وہ سورج کی گردش سے پیدا ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ بطلیموس (Ptolemy) سے لے کر کو پر نیکس (Copernicus) تک تقریباً دو ہزار سال ایسے گزرے ہیں کہ انسان اسی غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ صبح وشام کا فرق سورج کی گردش کا کرشمہ ہے۔ اس مثال کے ذریعہ شاید انسان کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ چیزوں کو ظاہری صورت (Face value) پر نہ لو بلکہ گہرائی تک جا کر اصل حقیقت معلوم کرو۔ کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے اور ظاہر میں کچھ اور دکھائی دیتی ہے۔
یہاں ریلوے لائن کے دونوں طرف دور تک کھلے ہوئے جنگل تھے۔ ان جنگلات میں کثرت سے ڈھاک کے درخت نظر آئے۔ ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے پھول نہایت حسین ہوتے ہیں۔ لکڑی کے ٹھنٹھ جیسے تنے پر لال رنگ کے حد درجہ خوشنما پھول لدے ہوئے تھے۔ یہ منظر گویا تقسیم خداوندی کی بے نیازی کو بتا رہا تھا۔ خدا چاہے تو لکڑی کے ایک ٹھنٹھ کو حسین پھولوں سے ڈھک دے، اور ایک بظاہر شاداب درخت کو بے پھول کر کے چھوڑ دے۔ خدا کے یہاں انعامات کی تقسیم کا معیار اس سے مختلف ہے جو انسانوں نے اپنے درمیان رائج کر رکھا ہے۔ میں نے جس روٹ پر سفر کیا، اس کی صورت کچھ اس طرح ہے کہ مانک پور تک ٹرین ایک رخ پر چلتی ہے، اس کے بعد انجن آگے سے نکال کر پیچھے کی طرف جوڑ دیا جاتا ہے ، اور ٹرین انگریزی کے حرف وی (V) کی شکل میں الٹے رخ پر دوڑنے لگتی ہے۔
مانک پور کے بعد جب ہماری گاڑی "پیچھے کی طرف" چلنے لگی تو اس کو دیکھ کر مجھے خیال
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues