Al-Risala · June 1988 · page 28

votes were divided.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۸

آیا کہ زندگی کے سفر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہر آدمی آگے کی طرف جانا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا کا نظام کچھ اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ یہاں کبھی آگے بڑھنے کے لئے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ، جیت کو حاصل کرنے کے لئے ہار کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ممتاز کام کرنے کے لئے گم نامی کی حیثیت پر راضی ہو نا پڑتا ہے۔ یہی اس دنیا کا قانون ہے۔ اس دنیا میں جو لوگ ” پس پائی “ پر راضی نہ ہوں وہ کبھی ” انتقام “ کی سعادت حاصل نہیں کر سکتے۔

پہلی بار میں غالباً ۱۹۶۱ میں ستنا آیا تھا۔ اس وقت میرے چھوٹے بھائی اے ۔ ایم خان انجینئر یہاں ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں پرنسپل تھے ، میری والدہ ان کے ساتھ مقیم تھیں۔ والدہ سے ملاقات کے لئے میں نے رام پور سے ستنا کا سفر کیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ روزانہ شام کو میں تنہا ٹہلنے کے لئے نکلتا تھا اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ دور تک چلا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ میرے چاروں طرف صرف قدرت کا ماحول میری ہمنوائی کے لئے باقی رہتا تھا۔ شہر کے باسیوں سے میں صرف الفاظ کی زبان میں بات کر سکتا تھا۔ مگر یہاں میرے قریب ایک ایسی دنیا ہوتی تھی جس سے الفاظ کے بغیر کلام ہوتا ہے۔ اور جب مخاطب اور متکلم غیر ملفوظ کلام میں مشغول ہوں تو لذت کلام بے حساب گنا حد تک بڑھ جاتی ہے ، کیوں کہ ملفوظ کلام محدود ہوتا ہے اور غیر ملفوظ کلام غیر محدود۔

اس علاقہ کا اس سے پہلے میں ایک اور سفر کر چکا ہوں۔ یہ سفر اصلا سیونی کے جلسۂ سیرت میں شرکت کے لئے تھا۔ اس سلسلہ میں میں ایک روز کے لئے جبل پور بھی ٹھہرا تھا۔ سیونی شہر ہے ، امیں آباد ہوا۔ جبل پور مدھیہ پردیش کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے ۔ ۱۸۷۱ء میں مرہٹوں نے جبل پور کو اپنا صدر مقام بنایا تھا ۔ یہاں پانچویں صدی کے بدھ مت ، ہندو اور جین مذہب کے تاریخی آثار ہیں۔

اس سفر کا کوئی سفر نامہ لکھا نہیں جا سکا تھا۔ اب مجھے تاریخ کی تلاش ہوئی۔ مگر اس کی تاریخ مجھے یاد نہیں تھی۔ پرانے کاغذات کو دیکھا تو اس میں اتفاق سے وہ پوسٹر مل گیا جس میں سیونی کے جلسہ سیرت کے منتظمین نے میرے نام کے ساتھ جلسہ کا اعلان شائع کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیرت کا یہ جلسہ ۱۴۔ ۱۶ فروری ۱۹۸۱ کو ہوا تھا۔ اس تجربہ کے بعد اس پرانے مقولہ کی حکمت سمجھ میں آئی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page