Al-Risala · June 1988 · page 29

votes were divided.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۲۹

کہ ــــــــــ داشْتَہ آید بکار ۔

تحریر بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی عجیب نعمت ہے ۔ تحریر کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ واقعات کو اس طرح منضبط کیا جا سکے کہ لمبی مدت گزرنے کے بعد بھی وہ عین اپنی سابقہ صورت میں محفوظ رہیں ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم بالقلم کو انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔ موجودہ زمانہ میں قلم یا تحریر کے اس فن میں بے شمار ترقیاں ہو چکی ہیں ، مگر عجیب بات ہے کہ قلم کے اعلیٰ استعمال میں سب سے پیچھے وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے دنیا کو قلم کی قوت کار از بیت یا نہ تھا۔ سفر عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں ، تفریح یا تجارت ۔ مگر تیسری زیادہ اہم قسم اس میں چھوٹ گئی ہے ۔ اور وہ ہے عبرت ۔ اسلامی سفر وہ ہے جو عبرت کا سفر ہو ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اسی اعلان کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے کہ وہ عبرت حاصل کرنے کے لئے باہر جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی عبرت پذیری کے ذہن کے تحت سفر کرے تاکہ ہر سفر اس کے لئے سبق کا ذریعہ بن جائے ۔

اصل یہ ہے کہ سفر انسانی شخصیت کی توسیع ہے ۔ ایک شخص جو اپنے گھر پر نظر عبرت کے ساتھ رہ رہا ہو، جب وہ باہر نکلے گا تو اس کا سابقہ ذہن وہاں بھی کام کرتا رہے گا۔ اسی طرح جو شخص مفاد پرست ہو ، اس کا سفر بھی اس کے لئے مفادات کی تلاش کے ہم معنی ہو جائے گا۔ ایک بیرونی سفر میں میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ اخبار والوں کو تلاش کرتے پھر رہے تھے تاکہ وہاں پہنچنے کے ساتھ اپنی آمد کی خبر اور اپنا انٹرویو چھپوا کر مقامی طور پر متعارف ہو سکیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں بیشتر لوگوں کا حال ہے ، کچھ لوگ نام و نمود کے اس ذاتی شوق کی تسکین برہنہ انداز میں کرتے ہیں اور کچھ لوگ پردہ داری کے ساتھ اسے انجام دیتے ہیں ۔

عام طور پر سفر میں میں اس طرح نکلتا ہوں کہ میرے ساتھ ایک چھوٹے سے بیگ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ، حتی کہ ایک گلاس بھی نہیں۔ ایک بار میں کسی سفر پر نکلا تو اتفاق سے میرے ساتھ ایک چھوٹا لوٹا بھی تھا ۔ مزید اتفاق یہ کہ یہ لوٹا بغیر ٹوٹی والا تھا۔ ایک مسلمان بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا: اس قسم کا لوٹا ہندو تہذیب کی علامت ہے ، آپ مسلمان ہیں ، آپ کو ٹوٹی دار لوٹا اپنے ساتھ رکھنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page