votes were divided.
الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۰
مسلمان پچھلے سو برس سے اسی قسم کے جھگڑوں میں مشغول ہیں۔ اور اس کو تہذیبی شناخت (Cultural identity) کا خوبصورت نام دئے ہوئے ہیں۔ مسلم قائدین اس معاملہ میں اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ تہذیبی شناخت کے نام پر حکومت کے خلاف مطالبا تی مہم چلا رہے ہیں۔ حالاں کہ تہذیبی شناخت کسی گروہ کی اندرونی حالت کا اظہار ہے ، وہ خارجی مطالبہ سے حاصل کی جانے والی چیز بنیں حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی پہچان اس قسم کی تہذیبی پہچان نہیں۔ مسلمان کی اصل پہچان اخلاقی پہچان ہے مسلمان اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ خارجی علامتوں سے۔ قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب داڑھی رکھتے تھے اور پگڑی اور تہمد پہنتے تھے۔ عین یہی طریقہ وہاں غیر مسلموں کا بھی تھا۔ رسول اللہ نے ایسا نہیں کیا کہ غیر مسلموں سے الگ اپنی ” تہذیب “ مقرر کریں۔ آپ نے مسلمانوں کے لئے جس امتیازی شناخت کی تلقین کی وہ یہ تھی کہ وہ ایک خدا کے پرستار نہیں۔ خوشی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں حق پر قائم رہیں۔ جو کچھ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں۔ دوسروں کے لئے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کا جذبہ ہو نہ کہ بغض اور حسد اور انتقام کا۔ مسلمان اگر یہ ” پہچان “ کھودیں تو دوسری کسی پہچان کا چھیننا بننا انھیں خدا کی نظر میں محبوب نہیں بنا سکتا۔
شام کو ہم بجے ٹرین مجھ کو لے کر دہلی سے روانہ ہوئی۔ رات بھر چلنے کے بعد اگلے دن 6 بجے ستنا کا اسٹیشن سامنے تھا۔ اب سفر کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ دروازہ کھلا اور میں ٹرین سے باہر نکل کر ” دوسری دنیا “ میں آگیا۔
تکمیل سفر کا یہ تجربہ میرے ذہن میں تکمیل عمر کا تجربہ بن گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرا سفر حیات آخری مرحلہ میں پہنچ گیا ہو اور میں دنیا سے نکل کر آخرت کے عالم میں داخل ہورہا ہوں یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔ دنیا کا سفر شاید اسی لئے کرایا جاتا ہے کہ آدمی آخرت کے اصل سفر کو یاد کرے ، وہ عارضی واقعہ میں مستقل واقعہ کی تصویر دیکھ لے ، اور آخرت سے دوچار ہونے سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔
ستنا میں میرا قیام جناب اقبال احمد صاحب ایم اے کے یہاں تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues