Al-Risala · June 1988 · page 32

votes were divided.

الرسالہ، جون ۱۹۸۸، صفحہ ۳۲

سب عام شیروں جیسے تھے۔ راس کے بعد دوبارہ ان میں سے ایک شیرنی کا اور موہن کا جوڑا ملایا گیا۔ اس متعلق کے بعد ۱۹۵۸ میں چار بچے پیدا ہوئے اور یہ چاروں سفید تھے ۔ ۔۔۔۔ یہ گویا قدرت کا سبق ہے کہ پہلی کوشش میں اگر تمہیں کامیابی نہ ہو تب بھی تم کو نا امید نہ ہونا چاہئے۔ سفید شیر بہت نادر قسم ہے۔ ساری دنیا میں اس وقت تقریباً 70 سفید شیر پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ۲۵ شیر صرف ہندوستان میں ہیں۔ سفید شیر عادات و خصائل کے اعتبار سے دوسرے شیروں جیسا ہی ہوتا ہے۔

شیر دودھ والے جانوروں کا شکار کر کے کھاتا ہے۔ وہ بھیڑیا اور سانپ جیسے جانوروں کو نہیں کھاتا۔ تاہم اس معاملے میں بھی وہ ایک فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھتا ہے۔ اگر آپ شیر کے بارہ میں کوئی کتاب پڑھیں تو شیر کا عالم آپ کو بتائے گا کہ شیر انھیں جانوروں پر حملہ کرتا ہے جن کے تعلق وہ جانتا ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ ان پر قابو پا سکتا ہے۔ بڑے جانور ، جیسے ہاتھی، جنگلی بھینسا وغیرہ پر حملہ کرنے سے وہ عام طور پر احتراز کرتا ہے :

Healthy large mammals are generally avoided (IX/1004). یہ شیر کا طریقہ ہے جو خدا کی فطرت گاہ میں تربیت پا کر نکلتا ہے۔ انسان کو خدا نے آزاد کر کے اسے عقل دی دی کہ وہ خود اپنے فیصلے سے صحیح طرز عمل اختیار کرے۔ مگر انسان کمزور ہونے کے باوجود ، اپنے سے طاقت ور پر حملہ کرتا ہے۔ اور پھر جب لازمی نتیجہ کے طور پر برباد ہوتا ہے تو دوسرا جرم یہ کرتا ہے کہ اپنی حماقت کا اعلان کرنے کے بجائے دوسروں کے ظلم اور سازش کا انکشاف کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔

ریوا میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک پروفیسر اختر حسین نظامی ہیں۔ انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تاریخ میں ایم اے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۱۹۴۷ سے ۱۹۳۵ تک علی گڑھ میں رہے ہیں۔ یہ سرسید کے پوتے راس مسعود کا زمانہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ راس مسعود جس زمانہ میں پیدا ہوئے اس وقت علی گڑھ میں ایک انگریز کلکٹر مسٹرر اس (Ross) تھا مسٹر اس کا نام مسعود میں جوڑ کر راس مسعود بنایا گیا۔ راس انگریز سے راس مسعود کے والد (سید محمود) کی دوستی تھی۔ اس انگریز افسر نے سید محمود سے کہا کہ تم اپنے لڑکے کے نام کے ساتھ میرا نام"راس

‹ Previous page Next page › Contents of June 1988 All issues

Printed page